• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

مولانا غلام رضا نقوی کو ایک بے بنیاد اور جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے جیل میں رکھا گیا ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان

جعفریہ پریس۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے سیالکوٹ میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تکفیری گروہ کے سربراہ اوردیگر قائدین کو طے شدہ منصوبے کے تحت مقدمات سے بری کیا جا رہا ہے،قائد ملت جعفریہ نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی پریس کانفرنسوں اور عدالتوں میں قتل عام کا سرعام اعتراف کرنے والے مذہبی جنونی دہشت گردوں کو طے شدہ معاملات کے تحت آزاد کرایا گیا ہے جبکہ مولانا غلام رضانقوی جس کی تمام مقدمات سے ضمانت ہو چکی تھی،اسے رہا کرنے کے بجائے ایک بے بنیاد اور جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے جیل میں رکھا گیا اور بعد میں ایک قتل کے مقدمے میں سزا دلوا کر امتیازی اور ناروا سلوک اپنایا گیا جس پر شدید مایوسی پھیل رہی ہے۔ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ میں آج پہلی مرتبہ آپ لوگوں کے سامنے کنفرم کر رہا ہوں کہ میں خود شاہد ہوں کہ جس مقدمے کی آڑ میں مولانا غلام رضا نقوی کو ضمانت پر رہا ہونے نہیں دیا گیا وہ بے بنیاد اورجھوٹا ہے۔ قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ میں بلا امتیاز قانون کے نفاذ اور آئین کی عمل داری کا مطالبہ کرتا ہوں ،تکفیریوں کو ایک بار پھر بڑھاوا دیا جا رہا ہے، جو ملک و قوم کے مفاد میں نہیں، ذمہ داران اس پیچیدہ صورتحال کا از سرنو جائزہ لے کر اپنی پالیسیوں میں توازن پیدا کریں اور آئین و قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔