• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

مولانا محمد یونس چانڈیو زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے – شیعہ علماء کونسل خیرپور کے زیر اہتمام نماز جنازہ ادا

جعفریہ پریس – گزشتہ روز شرپسند عناصر کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا عالم دین مولانا محمد یونس چانڈیو زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملے اور مقام شہادت پر فائز ہوگئے ۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون ۔ تفصیلات کے مطابق مولانا محمد یونس چانڈیو گزشتہ دن نماز فجر پڑھانے کیلئے جب مسجد کی طرف جا رہے تھے تو شرپسند عناصر نے ان پر اندھا دھند دفائرنگ کردی جس کے نتیجے میں مولانا شدید زخمی ہوگئے ۔ مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہچایا گیا اور فوری طور پر آپریشن کیا مگر ڈاکٹروں نے حالت انتہائی تشویشناک بتائی ۔جس کے نتیجہ مولانا محمد یونس زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ۔
شہید مولانا محمد یونس کے جنازہ کو غسل اور کفن کے بعد ایک احتجاجی ریلی کو صورت میں انکے آبائی گاوں پہنچایا گیا جہاں پر سینکڑوں مومنین نے شہید کے جنازہ کا استقبال کیا ۔ شیعہ علماء کونسل سندھ کے سینئر نائب صدر علامہ سید محسن علی نقوی کی اقتداء میں شہید کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ شیعہ علماء کونسل کے اکابرین نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس شہید کے خون کو رائگان نہیں جانے دیں گے ۔ مقررین نے شرپسندوں کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فورا نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے فوری طور پر شہید کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اورانہیں کیفر کردار پہنچایا جائے ۔ نیز مطالبہ کیا کہ جلد از جلد تکفیری گروپ کے لائسنس کو منسوخ کرتے ہوئے ان کو ممتاز گراونڈ میں اجتماع کرنے سے روکا جائے ۔اگر ان کو نہ روکا گیا توپورا خیرپور تکفیری ٹولے کی شرپسندی کی آگ میں جلتا ہوا نظر آئے گا ۔بعد از آن سینکڑوں مومنین اورشہید کے اعزاء و اقارب کی آہ وسسکیوں کے درمیان شہید کو علاقائی قبرستان میں دفن کیا گیا،