جعفریہ پریس – نجف اشرف میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے رکن حضرت آیت اللہ محمد مہدی آصفی دار فانی سے انتقال کر گئے۔ حضرت آیت اللہ محمد مہدی آصفی کی رحلت پر مرحوم  کے دفتر نجف اشرف سے ایک اطلاعیہ جاری کیا گیا جس میں آیا ہے کہ ملت ایران خاص طور پر علمائے اعلام اور حوزہ ہائے علمیہ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ آج صبح بروز جمعرات مورخہ  4 جون 2015 کو امام خمینی کے درینہ ساتھی اور نجف اشرف میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے، زہد، جہاد اور اجتہاد کے اسوہ آیت اللہ محمد مہدی آصفی دار فانی سے گزر گئے۔
حضرت آیت اللہ محمد مہدی آصفی کون تھے؟
محمد مہدی آصفی ۱۹۳۷ عیسوی میں ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جو علم و تقویٰ میں معروف تھا۔ آپ کے والد آیت اللہ شیخ علی محمد بروجردی آصفی وقت کے عارف اور حوزہ علمیہ کے بزرگ علماء و مجتہدین کی صف میں شامل تھے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حوزوی تعلیم کے حصول کے لیے اپنے والد کے ہمراہ حوزہ علمیہ نجف میں قدم رکھا اور فقہ و اصول کے علاوہ دیگر دینی معارف کو نجف اشرف میں مکمل جہد و مجاہدت کے ساتھ حاصل کیا۔ آپ نے حوزوی تعلیم کے ساتھ ساتھ بغداد یونیورسٹی سے ایم اے کی سند بھی حاصل کی۔
آیت اللہ آصفی نے نجف اور قم میں فقہ، اصول، فلسفہ، تفسیر قرآن وغیرہ دروس کی تدریس کی جبکہ آپ اکثر اسلامی علوم خاص طور پر تفسیر، کلام اور فقہ میں صاحب نظر تھے۔
۱۳۹۳ ہجری قمری میں مرحوم آیت اللہ العظمیٰ حاج شیخ میرزا ہاشم آملی اور آیت اللہ شیخ مرتضی آل یاسین نے نجف اشرف میں آپ کو اجازہ اجتہاد دیا۔
آپ عربی اور فارسی زبان پر مکمل تسلط رکھتے تھے جبکہ آپ نے عربی زبان میں بہت ہی گرانقدر کتابیں تالیف کی جن کا ترجمہ فارسی، اردو، ترکی، انگریزی، فرانسیسی اور کرد زبانوں میں ہوا ہے۔
عالمی سطح پر ہر دلعزیزحضرت آیت اللہ محمد مہدی آصفی قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے قریبی دوست تھے، اس مجاہد عالم دین نے پچیس سال عراق کی سیاسی تنظیم حزب الدعوۃ کی رہنمائی کمیٹی کے رکن خاص ہونے کی حیثیت سے ملعون صدام کی بعثی حکومت کے خلاف جہاد کیا جبکہ دس سال تک اس تنظیم کے اسپیکر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔
آیت اللہ آصفی کی سادہ زیستی اور زاہدانہ زندگی عام و خاص کا ورد زبان تھی۔ آپ ملعون صدام کی بعثی حکومت کی سرنگونی کے بعد حوزہ علمیہ نجف واپس لوٹ گئے اور آخری عمر تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here