• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

نظام ولایت فقیہہ درحقیقت نظام ولایت علی ؑ کا تسلسل ہے جس پرعمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اظہار بخاری

جعفریہ پریس- جعفریہ یوتھ کے مرکزی ناظم اعلی سید اظہار بخاری نے کہا ہے کہ نظام ولایت فقیہہ درحقیقت نظام ولایت علی کا تسلسل ہے جس سے دور حاضر میں انکارممکن نہیں۔ علمی نکتہ نظر میں اختلاف اور تشریحات میں فرق کے باوجود نظام ولایت فقیہہ کی افادیت اور اہمیت مسلمہ حیثیت اختیار کرچکی ہے جس سے عملی استفادہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے ۔ لہذا یوم غدیر کے موقع پر جہاں نظام ولایت علی کا بیان واجب ہے وہاں نظام ولایت فقیہہ کو متصل کرنا اور اس کوغدیرکا ہی ایک پرتو قرار دینا لازم ہے۔
یوم غدیر کے موقع پر جعفریہ لائبریری راولپنڈی میں محفل جشن غدیر سے گفتگو کرتے ہوئے سید اظہار بخاری نے مزید کہا کہ غدیر جیسے واشگاف اور اظہر من الشمس واقعے کو بھی تاریخی بھول بھلیوں میں اس قدر پیچیدہ اور متنازعہ بنایا گیا ہے کہ غدیرجیسا اہم ترین اور اسلام کی تکمیل کے اصلی اور آخری مرحلے کا اعزاز پانے کے باوجود اسے امت مسلمہ نے وہ مقام نہیں دیا جو اس واقعہ کے ظہور اورمقاصد میں شامل تھا۔ غدیر سے پردہ پوشی اورغدیر کے عملی انکار نے امت مسلمہ کا شیرازہ بکھیرا جس کے نقصانات کا احساس اور اثررہتی دنیا تک رہے گا۔
جعفریہ یوتھ کے ناظم اعلی نے کہا کہ اگرچہ عالم اسلام کے مختلف مکاتب اور مسالک یوم غدیر کے حوالے سے اپنا خاص نکتہ نظر رکھتے ہیں جس کی اصلاح تاریخی حوالوں کے ذریعے صدیوں سے جاری ہے اور جاری رہے گی لیکن تشیع کے درمیان اس واقعے اور اس عید کی اہمیت کو اجاگر کیا جانا روز بروز اہمیت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ علمائے کرام اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے کے ساتھ غدیر کی اہمیت کو سمجھنے والے اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ غدیر کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق بیان کریں جس میں ایک اعلی و ارفع نظام یعنی نظام ولایت علی کو دنیا کے مسائل کا حل رکھنے کی اہلیت کا حامل قرار دیا جائے۔ اسی تسلسل میں نظام ولایت ولایت فقیہہ کے استحکام اور ترویج کو بالخصوص مدنظر رکھا جائے تاکہ موجودہ دنیا میں نظام ولایت علی کا کامل اظہار نہ سہی لیکن ایک حسین جھلک ضرور نظر آئے۔ قطع نظر اس کے کہ نظام ولایت فقیہہ میں اصلاحات اور دنیا بھر کے علمائے تشیع کی آراء کی روشنی میں ترامیم کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔