• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

وزارت مذہبی امور پاکستان کی جانب سے اسلام آباد ہوٹل میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے موضوع پر سیمینار شیعہ علما کونسل کی شرکت

جعفریہ پریس – وزارت مذہبی امور پاکستان کی جانب سے اسلام آباد ہوٹل میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے موضوع پر سیمینارزیر صدارت وفاقی وزیر مذہبی امور سردارمحمد یوسف منعقد ہوا۔ اس موقع پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اتحاد اُمت مسلمہ کے لئے کام کیا ہے ۔ہم اسے عبادت کا درجہ سمجھتے ہیں ۔قائد ملت جعفریہ پاکستا ن علامہ سید ساجد علی نقوی کا کردار اُمت مسلمہ کے سامنے ہے ،اور کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے جنہوں نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کے لئے کام کیا ہے ،اس ملک میں فرقہ واریت نہیں ہے تمام مسالک کے درمیان ہم آہنگی ہے اور اتحاد وحدت کی فضاء قائم ہے ۔یہ دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ ،خود کش حملے ملک کے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔اس پر سنجیدہ طور پر مذہبی و سیاسی قوتوں کو غور کرنا ہوگا ۔اس کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینا ہوگا، اور وہ عناصر جو فرقہ واریت کے نام پر ملک میں آگ لگانا چاہتے ہیں حکومت کو ان سے آہنی ہاتھ سے نمٹنا ہوگا ،سزائے موت کے معطل شدہ قانون کو بحال کرنا ہوگا ،تکفیری سوچ کے مقابلے میں ہم سب کو متحد ہوکر کھڑا ہونا ہوگا ۔
علامہ عارف حسین واحدی نے مزید کہا کہ جب تک اس ملک میں مسالک کے درمیان منافرت پھیلانے والے تکفیریوں اور دہشت گرد وں کو مضبوط ہاتھوں سے نہیں روکا جائے گا اس وقت تک اس ملک میں امن کا قیام ممکن نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل کا ضابطہ اخلاق موجود ہے نچلی سطح تک اس ضابطہ اخلاق پر عمل ہونا چاہیے،آئین پاکستان موجود ہے اس میں فرقہ واریت پھیلانے اور دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف قوانین موجود ہیں ان قوانین پر عمل درآمد کو حکومت یقینی بنائے کسی نئے قانون کی ضررورت نہیں ہے۔