• ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی وقت کی ضرورت ھے۔علامہ عارف واحدی
  • اسلامی تحریک پاکستان کا صوبائی ا نتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان
  • جامعہ جعفریہ جنڈ کے زیر اہتمام منعقدہ عظیم الشان نہج البلاغہ کانفرنـــــس
  • سانحہ پشاور مجرموں کی عدم گرفتاری حکومتوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ترجمان قائد ملت جعفریہ ہاکستان
  • سانحہ بسری کوہستان !عشرہ گزر گیا مگر قاتل پکڑے گئے نہ مظلومین کو انصاف ملا،
  • راہِ حسین(ع) پر چلنے کیلئے شہداء ملت جعفریہ نے ہمیں بے خوف بنا دیا ہے۔علامہ شبیر حسن میثمی
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کے زیر اہتمام کل شہدائے سیہون کی برسی کا اجتماع ہوگا
  • شہدائے سیہون شریف کی برسی میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں علامہ شبیر حسن میثمی
  • ثاقب اکبر کی وفات پر خانوادے سے اظہار تعزیت کرتے ہیں علامہ عارف حسین واحدی
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی ثاقب اکبر کے انتقال پر تعزیت

تازه خبریں

وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا سیرت حضرت فاطمہؑ کا تقاضہ ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی

وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا سیرت حضرت فاطمہؑ کا تقاضہ ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی

اسلام آباد: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی نے الکوثر گرلز کالج اسلام آباد میں حضرت فاطمہ زہرا سلام علیہا کے بارے میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ موجودہ عہد میں بیٹیوں کے لیے سیرت حضرت فاطمہ پر عمل پیرا ہونا ضروری بھی اور اس راستے میں ان کے لیے کوئی رکاوٹ بھی نہیں ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیرت سیدہ پر عمل کرنا جتنا آج ممکن ہے شاید تاریخ میں کبھی بھی ایسا کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔

انہوں نے جناب سیدہ کی سیرت کے مختلف پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیرت کے روشن پہلووں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے کردار و گفتار کو آراستہ کریں اور علمی لحاظ سے آنیوالے زمانے کے لیے خود کومضبوط کریں کیونکہ آج کی یہی بیٹیاں ہی مستقبل کو سنوارنے کی صلاحیت و توانائی رکھتی ہیں اور ہمارے آنیوالے کل کے لیے ایک ایسا روشن مستقبل پیش کرسکتی ہیں جو جناب سیدہ کی سیرت کا عکاس ہو۔

زہرا اکیڈمی کراچی کے چئرمین علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی نے تاکید کی کہ یہ پہلو اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ہمارا آنیوالا کل آرٹیفیشل انٹیلی جنس جیسے فنومناز سے بھرا ہو اہے۔ اگر ہماری بیٹیاں علم و عمل اور کردار و گفتار کے لیے لحاظ سے جنتا خود کو مضبوط کریں گی آنے والے عہد میں اسلام، اہل بیتؑ اور قرآن کے پیغام کو عام کرسکیں گی۔