جعفریہ پریس  – قائد ملت جعفریہ پاکستان اور اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے عید میلا دالنبیؐ اور ہفتہ وحدت کے آغاز کے موقع پر اپنے پیغام  میں کہا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی زندگی کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ عالم اسلام کے اتحاد کا مرکز اور نبی وحدت ہیں آپ کی حیات مبارکہ ہمیں اخوت‘ بھائی چارے‘ وحدت اور محبت کا درس دیتی ہے آپ نے ہمیشہ مختلف النسل اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے صحابہ کرام کے درمیان محبت‘ اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔ اور ہر قسم کے لسانی‘ علاقائی‘ فروعی اور جزوی و ذاتی اختلافات و تعصبات کی نفی کی اور انہیں نظر انداز کرنے کا حکم فرمایا۔دور حاضر میں سیرت نبوی ؐ کے اس پہلو کو خاص طور پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
عید میلادالنبی ؐ کے مبارک موقع پر اپنے پیغام میں حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ یہ سنت الہیہٰ ہے کہ خداوند کریم اپنے انبیاء و مرسلین اور آئمہ و صالحین کو بھجوا کر انسانوں کو ظلمتوں اور تاریکیوں سے نکال کر نور اور روشنی کی طرف لاناہے اور انہیں ہدایت جیسی عظیم اور اعلی و ارفع نعمت سے سرفراز فرماناہے۔ اسی تناظر میں خداوند تعالی نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ؐ کو رحمت اللعالمین اور خاتم المرسلین بناکر انسانوں کے درمیان بھجوایا تاکہ انسانیت کو ظلم و ناانصافی اور جہالت و گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر ہدایت و حکمت اور عدل و مساوات کی کمال بلندیوں تک پہنچادے۔ لہذا حضور اکرم کی آمد سے خدا کا وعدہ یقینی طور پر پورا ہوا اور کائنات ہدایت کے نور سے منور ہوئی۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ ایک طرف امت مسلمہ کی خوش بختی کا پہلو یہ ہے کہ انہیں سرور کائنات جیسی ہستی کے ساتھ منسلک ہونے اور ان کی سیرت و سنت سے استفادہ کرنے کے مواقع نصیب ہوئے۔ دوسری طرف امت مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ سیرت رسول ؐ پر مکمل طور پر عمل پیرا نہیں ۔ ذاتی و اجتماعی سطح پر مختلف برائیوں‘ گناہوں‘ کوتاہیوں اور انتشار و افتراق کا شکار ہے۔ قرآنی احکامات اور اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیئے ہیں۔ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ عید میلاد النبی اور ہفتہ وحدت ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہم ان مبارک ایام میں اپنے داخلی‘ خارجی‘ مقامی اور عالمی مسائل کے حل کے لئے اتحاد و اخوت کے ساتھ پیغمبر اکرم ؐ کی سیرت سے صحیح استفادہ کریں اور تمام اسلامی مکاتب اور مسالک کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے باہم مل کر سینکڑوں مشترکات کو بنیاد بناکر اجتماعی پروگرام کریں۔ باہمی محبت و رواداری کو فروغ دیں۔ نفرتوں ‘ بغض و عداوت اور عناد کا خاتمہ کریں۔ فروعی مسائل اور فرقہ وارانہ تنازعات اور تعصبات کو ہوا دینے سے گریز کریں۔ مشترکات پر جمع ہوکر عملی وحدت کا مظاہرہ کریں تاکہ پاکستان سمیت پورا عالم اسلام سیرت پیغمبر گرامی کی روشنی میں ہدایت پر عمل پیرا ہوسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here