• علامہ شبیر حسن میثمی کی اسپیکر قومی اسمبلی
    راجہ پرویز اشرف سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات
  •  متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کو یکسر مستردکرتے ہیں ، شیعہ علماءکونسل پاکستان
  • متنازعہ ترمیمی بل: علماء و ذاکرین مشاورتی اجلاس کل کراچی میں منعقد ہوگا
  • مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی ی شدید مذمت کرتے ہیں سید راشد حسین نقوی
  • بزرگ علمائے تشیع نے متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا اعلامیہ جاری
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ضلع ملتان کا ورکر کنونشن منعقد ہوا جس میں مولانا اعجاز حسین بھشتی ضلی صدر ملتان منتخب ہوئے
  • شیعہ علماء کونسل کی زیر نگرانی متنازعہ بل کے سلسلے میں مختلف جماعتوں کا اجلاس
  • علامہ اسد اقبال زیدی کا ضلع دادو کادورہ اسلامی تحریک کے کارکنان سے ملاقات
  • توہین کے متنازعہ بل کو مسترد کرتے ہیں علامہ رمضان توقیر
  • قومی اسمبلی میں متنازعہ قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تازه خبریں

پاکستانی زائرین کیلئے عراق بارڈر کھولنا احسن اقدام ہےشیعہ علماء کونسل پاکستان

قائد ملت جعفریہ نے متاثرین حالیہ بارشوں اور سیلاب زدگان کی مدد کیلئے مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ عطیات ، صدقات ،زکوۃ، سہم سادات اور سہم امام سے مدد فرمائیں

مصیبت کی اس گھڑی میں ہم سیلاب زدگان کے ساتھ ہیں،شیعہ علماء کونسل پاکستان کا ہر جوان امدادی کارروائیوں میں بلا تفریق بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے

اسلام آباد /راولپنڈی 12ستمبر 2022ء (جعفریہ پریس پاکستان ) شیعہ علماء کونسل پاکستا ن کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا ہے کہ پاکستانی زائرین کیلئے عراق بارڈر کھولنا احسن اقدام ہے اور اس ضمن میں عراق ،ایران اور پاکستانی حکام سمیت تمام مراجع عظام کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، اور دیگر رہنماء مولانا سید وزیرحسین کاظمی، سید محمد علی کاظمی سربراہ محرم الحرام کمیٹی اسلام آباد و سابق ضلعی صدر نیئر عباس بلوچ شیعہ علما ء کونسل اسلام آباد بھی موجود تھے۔ علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ عراق حکومت کی جانب سے پاکستانی زائرین کیلئے عراقی بارڈر کی بندش کے باعث زائرین مشکل میں تھے جو مسلسل رابطوں، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور جدوجہد کے نتیجہ میں حساس مسئلہ حل ہوا ہے جس کا ہم خیر مقدم کر تے ہیں ان احباب اور افراد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اہم اور حساس مسئلہ کے حل کیلئے مثبت کر دار ادا کیا ۔ہم اس پریس کانفرنس کی وساطت سے عراق ،ایران اور پاکستانی حکام سمیت تمام مراجع عظام کی کاوشیں لائق کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔جبکہ انہوں وفاقی وزراء ریاض حسین پیرزادہ، بلاول بھٹو زرداری، ایاز صادق، رانا ثناء اللہ اور عطا تارڑ کی جانب سے زائرین کے مسلے کے حل اور سیلاب زدگان کو وسائل کی فراہمی میں کردار کو سراہتے ہوئے اس اہم نوعیت کے مسائل کو فوری حل کرنے کو بھی لائقِ تحسین قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ زائرین کے مسلے کا مستقل حل ناگزیر ہے لیکن زمینی راستوں کی بندش سے غریب عوام کو زیارات مقدسہ سے محروم کرنا زیادتی کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ امسال ملک بھر میں مجالس اور جلوسوں کے منتظمین و عزاداروں پر ایف آئی آرز کے اندراج پر سخت الفاظ میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو آئین، قانون و بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مجالس و جلوسوں پر درج تمام ایف آئی آرز ختم کی جائیں۔ اربعین کے جلوسوں اور مجالس میں رکاوٹیں ڈالنا بنیادی انسانی اور شہری حقوق کے منافی ہے اس لیے واضح کرنا چاہتے کہ عزاداری سید الشہداء پر کسی قسم کی قد غن برداشت نہیں کی جائے گی۔ علامہ شبیر حسن میثمی نے کہاکہ ملک میں جاری طوفانی بارشوں،ندی ، نالوں اور دریائوں میں طغیانی کے باعث سیلاب نے وطن عزیز میں تباہی مچا رکھی ہے، اس ہولناک تباہی سے لاکھوں افراد بے گھر ،کئی بستیاں زیر آب ،ہزاروں افراد پھنس چکے ہیں ، کئی رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے ہیں جس پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ عطیات ، صدقات ،زکوۃ، سہم سادات اور سہم امام سے متاثرین حالیہ بارشوں اور سیلاب زدگان کی مدد فرمائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم مصیبت کی اس گھڑی میں سیلاب زدگان کے ساتھ ہیں اور شیعہ علماء کونسل پاکستان کا ہر جوان امدادی کارروائیوں میں بلا تفریق بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے ۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر زہرا ؑ اکیڈمی کے زیر اہتمام سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف مقامات پر 150سے زائد امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں پر کشتیوں کے ذریعے سیلاب متاثرین کو کہیں کھانا دیا جارہے ،کہیں راشن فراہم کیا جارہا ہے ،کہیں میڈیکل کی سہولیات دی جارہی ہیں ، کہیں خیمے اور مچھر دانیاں دی جارہی ہیں ،اور سیلاب متاثرین کیلئے پینے کا صاف پانی مہیا کیا جار ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمیں ادویات کی فراہمی کیلئے میڈیسن کی قلت کا سامنا ہے لیکن ہماری پوری کوشش ہے کہ جہاں تک ہوسکے ہم لوگوں کے ساتھ تعاون کر سکیں علاوہ ازیں کشتیوں سے لوگوں کونکالنے کا کام تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اور آئندہ بھی عوام کو ریلیف دینے کے کام میں یونہی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے گا۔