جعفریہ پریس – پیام زہراء آرگنائیزیشن پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں 20 جمادی الثانی کو یوم خواتین کرکے منایا جائے گا جس میں ملک بھر میں خواتین حجاب پہن کر سیدہ زہراء سلام اللہ علیہا پر درود پیش کرنے کے لیئے محافل کا اہتمام کریں گی جس میں مقررہ خواہران سیدہ زہرا ء سلام اللہ علیہا کی زندگی پر روشنی ڈالیں گی ان خیالات کا اظہار خواہرہ سیدہ سارا نقوی مرکزی صدر پیام زہراء آرگنائیزیشن پاکستان نے اپنے جاری کردی پریس بیان میں کیا ہے انہوں نے مزید کہا ہے کہ سیدہ زہراء کے پیغام کو ہر خواتین تک پہنانا اتنھائی لازمی ہے کیونکہ اس دور میں خواتین کو ان کے تعلیمات سے دور رکھا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ سیدہ کی زندگی خواتین کے لیئے نمونہ عمل ہے کیونکہ سیدہ طاہرہ ایسی رفیقہ حیات تھیں جنہوں نے حضرت علی ؑ کے گھر کو دنیا کا مثالی گھر اور درسگاہ عالم بنا دیا جہاں پر اسیدہ بتول زہراٗ ایک بھترین بیوی کا کردار ادا کررہی تھیں وہاں پر وہ عبادت گزار اور شریعت کے اصولوں پر کاربند رہنے والی تھیں ڈاکٹر علی شریعتی اپنے کتاب فاطمہ فاطمہ میں لکھتے ہیں کہ علی ؑ کا گھر تو مثلِ کعبہ ہے جہان اولاد ابراہیم ؑ رہتی بستی ہے علی کا گھر ہر اس دل کی منزل ہے جو حسن کا شعور رکھتا ہو جو انسانیت کی عظمت کو پہچانتا ہو جو آزادی ،انصاف، محبت، خلوص، قوت وتوانائی کی عزت کرتا ہے جہاد اور انقلاب کے لیئے اھارتا ہے اور انسان کی آزادی اور بقا کے لیے کود قربانیاں دیتا ہے اس گھر کی معمار ہیں فاطمۃ الزہراء جنہون نے اپنے گھر ، اپنے بچے شوہر ہر ایک سے محبت کی اور انہیں مثالی انسان بنادیا یہی وجہ ہے جو یوم خواتین کو منانے کا ترتیب دیا گیا ہے تاکہ اس مقدس ہستی کے نمونہ عمل کو خواتین تک پہنچایا جاسکے اس سلسلہ میں لاڑکانہ میں ایک مرکزی نوعیت کا پروگرام ہوگا جس میں علائقائی خواہران شرکت کریں گی جبکہ باقی علائقوں کی خواہران کو انٹرنیٹ اور موبائیل کے ذریعہ اس میں شریک کیا جائے گا چونکہ یہ خواتین کا پروگرام ہے لہٰذہ اس میں مردوں کی شرکت کسی قیمت بھی نہیں ہوگی جن خواہران کو کمپیوٹر اور انٹنرنیٹ کی سہولت ہے ان خوہران کو ویب سائیٹ کا پاسورڈ دیا جائے گا جبکہ جن خواہران کو موبائیل فون کی سہولت میسر ہے ان کو کانفرنس کال کے ذریعہ سے شریک کیا جائے گا واضع رہے کہ اس پروگرام میں صرف ممبر خواہران ہی شرکت کرسکیں گی انہوں نے ملت جعفریہ کی تمام تر خواتین سے اپیل کی کہ وہ یہ پروگرام منائیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here