• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

کراچی، اسرائیلی جارحیت کے خلاف غزہ ملین مارچ میں شیعہ علما کونسل رہنماؤں کی خصوصی شرکت

جعفریہ پریس-  غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے شاہراہ فیصل کراچی پرغزہ ملین مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں اہلیان کراچی نے بھرپور انداز میں شرکت کی جبکہ علامہ ناظر عبّاس تقوی ،علامہ جعفر سبحانی اورعلامہ فیاض مطہری کی سربراہی میں شیعہ علما کونسل پاکستان سندھ کے وفد نےخصوصی شرکت کی-اس موقع مختلف سیاسی مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا جبکہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق اورحماس کے مرکزی رہنما خالد مشعل نے ٹیلیفونک خصوصی خطاب کیا-
مقررین نے کہا کہ آج کل اہل غزہ الہی و الہامی تعلیمات پرعمل کے نتیجے میں ساری امت مسلمہ کے لئے صبر، ایثار، شہادت، شجاعت، غیرت اور استقامت میں نمونہ اور ماڈل بن چکے ہیں اور اگر آج امت مسلمہ کسی کو حافظان حرم اور خادمان حرم کا لقب دنیا چاہے تو یہ مقدس عنوانات صرف انہی جوانوں کا حق ہے جو اسلام اور مسلمین کی عزت و ناموس اور حرم بیت المقدس کا دفاع کر رہے ہیں چونکہ قرآن کریم نے بھی جب مومنوں کو اعزاز سے نوازا ہے تو وہاں پر بھی انکی کارکردگی اور قیام کو معیار قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو قیام اور جہاد نہ کرنے والوں پر فضیلت دی ہے، آج غزہ کے غیور جوان، مقبوضہ فلسطین کی راجدھانی اور اسکے دوسرے شہروں پر راکٹوں کی بارش برسا کر شدت پسند غاصب یہودیوں کی زندگی اور تجارت، بے آرام اور متزلزل کرکے ساری دنیا اور خصوصاً عرب حکمرانوں سے اعلان کرتے ہیں کہ فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاش عرب ممالک کی تیل سے حاصل شدہ عظیم ثروت اس وقت حماس کے ان جوانوں کی کام آتی اور بجائے اس کے یہ دولت، شیعہ و سنی اختلافات پر خرچ ہوتی-