• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

کراچی میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف شیعہ علماء کونسل نوابشاہ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ

جعفریہ پریس – کل براوز جمعۃ المبارک کو شیعہ علماء کونسل نوابشاہ نے کراچی میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کا اہتمام کیا ۔جعفریہ پریس کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق نماز جمعہ کے فورا بعد مرکزی جامع مسجد سے احتجاجی مظاہرہ کا آغاز کیا گیا جو کہ الشہباز روڈ تک پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ احتجاجی مظاہرے سے جامع مسجد کے امام جمعہ مولانا سید نیاز حسین شاہ اور محمد حسین چانڈیو، محمد عالم مری،علی نواز مری،مشتاق چانڈیو نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں مقررین نے کراچی میں جاری فسادات اور ٹارگٹ کلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فی الفور سفاک اور خونی قاتلوں کو بے نقاب کرتے ہوئے انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک سفاک قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا قیام امن کا خواب کسی صورت میں تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ایک طرف حکومت اور انتظامیہ عوام کو تحفظ دینے میں یکسر ناکام نظر آرہی ہے تو دوسری طرف قصاص جیسا الہی قانون کو روک کر دھشتگردوں اور قاتلوں کی بے انتہا حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔
المیہ تو یہ ہے مملکت خداداد پاکستان جو کے اسلام کی بنیاد پر ہی بنایا گیا تھا آج اسی مملکت میں اسلامی قوانین کو معطل کیا جارہاہے جو سراسر ظلم اور نا انصافی ہے ۔ ہم حکومت اور انتطامیہ کہ متنبہ کرتے ہیں کہ ہماری صبر کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے بلکہ ہم نے تو ارض مقدس کی سالمیت کی خاطر یہ سب قربانیاں دے کر بھی صبر کا دامن تھاما ہوا ہے ۔ ہم تو صرف اپنے محبوب قائد کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں ۔اور انکے ہر حکم کو لبیک کہنے کیلئے تن من دھن سے آمادہ و تیار ہیں