• علامہ رمضان توقیر سے علامہ آصف حسینی کی ملاقات
  • علامہ عارف حسین واحدی سے علماء کے وفد کی ملاقات
  • حساس نوعیت کے فیصلے پر سپریم کورٹ مزیدوضاحت جاری کرے ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ شبیر میثمی کی زیر صدارت یوم القد س کے انعقاد بارے مشاورتی اجلاس منعقد
  • برسی شہدائے سیہون شریف کا چھٹا اجتماع ہزاروں افراد شریک
  • اعلامیہ اسلامی تحریک پاکستان برائے عام انتخابات 2024
  • ھیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کی جانب سے مجلس ترحیم
  • اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا
  • مولانا امداد گھلو شیعہ علماء کونسل پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر منتخب
  • اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام فلسطین و کشمیر کانفرنس

تازه خبریں

کسی فریق کی حمایت یا مخالفت نہیں کرینگے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی نکتہ نگاہ تصور ہوگا

جعفریہ پریس -ملی یکجہتی کونسل کے سینئر نائب صدر و قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ہم ملی یکجہتی کونسل کے ثالثی کے فیصلے میں شامل ہیں اگرممکن ہوا تو ضامن کے کردار میں بھی شامل ہونگے لیکن کسی کی مخالفت یا حمایت نہیں کرینگے، اگر کوئی کسی کی حمایت یا مخالفت کرتا ہے تو وہ اسکا ذاتی نکتہ نگاہ ہے جس سے ملی یکجہتی کونسل کے موقف کا کوئی تعلق نہیں۔
اتوار کے روز اپنے وضاحتی بیان میں حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کا چند روز قبل ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال بارے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ۔جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا اورملی یکجہتی کونسل نے ملک میں امن و بھائی چارے کی فضاءبرقرار کھنے کےلئے موجودہ سیاسی ہلچل میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ضامن کا کردار ادا کرنے کے عزم پر قائم ہیں اوراگرممکن ہوا تو ضامن کا کردار ادا کرنے میں بھرپور تعاون کرینگے البتہ یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کسی بھی فریق کی مخالفت یا حمایت نہیں کرینگے اگرکوئی جماعت، شخص کسی فریق کی حمایت یا مخالفت کرتا ہے تویہ اس کا انفرادی فعل تصورکیا جائے اور یہ اس کا ذاتی نکتہ نگاہ ہوگا جس سے ملی یکجہتی کونسل کے موقف کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ملی یکجہتی کونسل نیک نیتی اور امن و بھائی چارے کی فضاکے قیام کی خاطر ثالث کا کردار ادا کرنے کےلئے آمادہ ہوئی ہے واضح رہے کہ ملی یکجہتی کونسل کا قیام ملک میں بھائی چارے اور باہمی احترام کے فروغ کی خاطر عمل میں لایا گیا ہے۔