کشمیروفلسطین کے مسلمانوں پر ظلم وقتل عام عالمی ضمیر پر داغ ہے ، آیت اللہ ساجد نقوی


کشمیروفلسطین کے مسلمانوں پر ظلم وقتل عام عالمی ضمیر پر داغ ہے ، آیت اللہ ساجد نقوی
اقوام عالم کی بڑی طاقتیں ضمیر کے عالمی دن کے موقع پر ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے عملی طور پر ظلم کیخلاف عملی اقدامات کااعلان کریں ، قائد ملت جعفریہ

یہ تصور کہ خدا انہیں دیکھ رہاہے اِنسان کو ظلم، لالچ، زیادتی، حق تلفی اور بے اِنصافی سے روکتا ہے، یہی دراصل ضمیر ہے۔

 راولپنڈی /اسلام آباد4اپریل 2021ء( جعفریہ پریس پاکستان   )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 5اپریل کو عالمی ضمیر کے دن کے موقع پرکہا کہ کشمیر اورفلسطین کے مسلمانوں پر ظلم و قتل عام عالمی ضمیر پر داغ ہے،اقوام عالم کی بڑی طاقتیں ضمیر کے عالمی دن کے موقع پر ضمیر آواز پر لبیک کہتے ہوئے عملی طور پر ظلم کیخلاف آواز زاٹھاتے ہوئے عملی اقدامات کا اعلان کریں۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ عموماً ا ُن لوگوں کا ضمیر ہمیشہ زندہ رہتا ہے جو خدا خوفی رکھتے ہیں، جو یومِ حساب پر یقین رکھتے ہوئے خدا وند کریم سے ڈرتے ہیں، جو ابدہی اور ب رائی کرنے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ خدا وند کریم اُنہیں دیکھ رہا ہے یہ تصور ہی اِنسان کو ظلم، لالچ، زیادتی، حق تلفی اور بے اِنصافی سے روکتا ہے یہی دراصل ضمیر ہے اور یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ نیکی اور بدی کے فرق کو سمجھنے کی اہلیت رکھنے کا نام ہی” ضمیر “ہے۔علامہ ساجد نقو ی نے مزید کہا کہ ہماری کچھ خامیاں اور کوتاہیاں اپنی جگہ‘ مگر یہ کہنا کہ تمام مغربی دنیا بشمول اقوامِ متحدہ کو کشمیر اور فلسطین کے لاکھوں بے گناہوں پر ہونے والے ظلم و ستم دکھائی نہیں دیتے۔ بوڑھے‘ جوان‘ بچے اور خواتین ‘ غرضیکہ کون ہے جو کشمیر میں ہندوستانی فوج اور فلسطین میں اسرائیلی فوج کے ظلم و ستم سے بچا ہوا ہے۔ کیا عالمی ضمیر کوصرف ہندوستان، اسرائیل کی بڑی اکنامک مارکیٹ ہی نظر آتی ہے؟ آزادی اور برابری کے اس دور میں بھی کشمیری، فلسطین عوام اپنے حقِ خود ارادیت کے لئے مصروفِ جدوجہد نظر آتے ہیںمگر ان پر اس حق کے حصول کے تمام پ ±رامن راستے بند کردیئے گئے ہیں حتیٰ کہ مظاہرے کرنے والے نوجوانوں اور بچوں پر ظلم و تشدد کے نئے طریقے دریافت کرلیے ہیں ظلم کے یہ طریقے تو شاید ہلاکو اور چنگیز خان نے بھی استعمال نہیں کئے ہوں گے جو دشمن کو ایک وار سے ہی مٹا ڈالتے تھے یہ ظلم‘ یہ جبر‘ یہ درندگی آج عالمی ضمیر کے لئے ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جلد یا بدیر بہرحال ا ُسے جواب دینا پڑے گا۔آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ہم آزاد ہیں مگر کشمیروفلسطین مسلمان ابھی تک آزادی کی نعمت سے محروم ہیں۔ آزاد دنیا کی آزادی کا کیا فائدہ جو مظلوم اور مجبور لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہ لاسکے۔ اس اختیار کا کیا فائدہ جو ساری سامراجی طاقتوں کو منہ توڑ جواب نہ دے پائے۔ یوں لگتا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی ہر سطح پر کشمیر ، فلسطین جیسے سنجیدہ مسئلے کا مستقل حل نکالنے کے بجائے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ کوئی مرے یا جیئے عالمی ضمیر کو اس سے کیا غرض ہے لہذا تمام مسلم ممالک کو متحد ہوکر ایک پیج پر آکر اقوام عالم کے ضمیر کو جگانے کی ضرورت ہے تاکہ مسائلکا پائیدار حل ممکن ہو ۔