• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

گلگت بلتستان عبوری آئینی صوبے کے قیام کی کوششیں حوصلہ افزاءہیں،قائد ملت علامہ ساجدنقوی

گلگت بلتستان کی آزادی تاریخی اقدام تھا،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

گلگت بلتستان کی آزادی تاریخی اقدام تھا،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
گلگت کی آزادی اور ڈوگرہ فوج کی تاریخی شکست کے بعد اسلامی جمہوری گلگت کا قیام عمل میں لایا گیا، قائد ملت جعفریہ
 گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دیے جائیں، سینٹ و قومی اسمبلی میں مناسب نمائندگی دینے میں سنجیدگی دکھانی چاہیے
 گلگت بلتستان جیسے جغرافیائی حامل خطہ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنا کسی صورت مناسب نہیں ہے
راولپنڈی /اسلام آباد 31اکتوبر 2022ء( جعفریہ پریس پاکستان )یوم آزادی گلگت بلتستان کے حولاے سے اپنے پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستان کا کہنا تھا کہ تقسیم برصغیر کے بعد گلگت بلتستان کی آزادی تقسیم برصغیر کو تقویت تھی۔ 27اکتوبر 1947 کو جب مہار اجہ کشمیر نے الحاق بھارت کا اعلان کیا اسی دن گلگت میں ہری سنگھ کے اعلان سے علم بغاوت بلدن کیا اور برصغیر کی تقسیم کا پنا حصہ ادا کرتے ہوئے یکم نومبر 1947 کو گلگت آزاد کرایا جو گلگت کی قدیم و جدید تاریخ میں بہت بڑا سیاسی اقدام تھا۔ گلگت بلتستان کے غیور عوام نے دس ماہ کی مسلسل جدوجہد کے ذریعے تراکبل تک دشمن کی مسلح فوج کو دھکیل دیا۔ مجاہدین اگر چہ ہاتھوں میں تھامنے والے اسلحے سے خالی تھے مگر ایمانی طاقت و قومی یکجہتی کاحوصلہ تھا۔ گلگت کی آزادی اور ڈوگرہ فوج کی تاریخی شکست کے بعد اسلامی جمہوری گلگت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اور راجہ شاہ رئیس خان پہلے صدر بنے۔ مستقل ریاست قائم کرکے نے کے بعد باقاعدہ طور پر غیر مشروط پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی جانب سے الحاق پاکستان کا اعلان تقسیم برصغیر کے موقف کی تائید تھی۔ جس نے پاکستان کے موقف کو تقویت دی۔ لہذا ضروری ہے کہ ملکی و بین الاقوامی تناظر میں خطہ کے عوام کی خواہشات کو مد نظر رکھا جائے ۔ علامہ ساجد نقوی نے آخر میں کہا عوامی بدلتے حالات میں گلگت بلتستان جیسے جغرافیائی حامل خطہ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنا کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ لہذا گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دیے جائیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ملکی آئین کے ذمرے میں لاتے ہوئے حقوق دیئے جانے سے پاکستان کا موقف کمزور نہیں بلکہ زیادہ مضبوط ہوگا۔ سینٹ و قومی اسمبلی میں مناسب نمائندگی دینے میں سنجیدگی دکھانی چاہیے۔ ہم اس تاریخی آزادی میں شامل شہداءاور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔