• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

ہم انتظار میں ہیں حکومت اپنی پالیسی کا اعلان کرے اگرحکومت نے سکورٹی پالیسی وضع نہ کی تو ہم وضع کریں گے پھر دیکھتے ہیں اس ملک میں تکفیری غلیظ نعرے کس طرح لگتے ہیں، قائد ملت جعفریہ

  جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ ساجد علی نقوی نے شہید مولانا دیدار علی جلبانی کے چہلم کی مناسبت سے منعقدہ مجلس و تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید مولانا دیدار علی جلبانی کی قومی و ملی اور دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور جن مقاصد کیلئے شہید نے اپنی جان قربان کی انکو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔  قائد ملت جعفریہ  نے کہا کہ البتہ میں سمجھتا ہوں دشمن کوغلط اندازہ ہے جو سمجھتا ہے کہ اس قسم کے افراد کو شہید کرنے سے تشیع کوکمزورکرلے گا یہ ان کا اندازہ غلط  ہے ایسی شہادتوں کے خون سے تشیع کی بنیادیں اورزیادہ مضبوط ہوتی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ یہ بزدلانہ کاروائی ہے ،کوئی جراتمند آدمی، گروہ یا فرد اس قسم کی کاروائی نہیں کرسکتا یہ بزدلانہ حرکت اوراپنی ناکامی کا اعتراف ہے،اب وہ دوسرے پہلوں سے ناکام ہوئے تو یہ راستہ اختیار کیا،انہوں نے کہا کہ یہ بات میں ان لوگوں کے حوالے سے کررہا ہوں جو قاتل ہیں جنہوں نے جان لی ہے ،یہ کرائے کے لوگ ہیں ان کا کسی مکتب فکرسے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجدعلی نقوی نےکہا کہ ہم نے حکمت ودانائی سے اس اندازسے ان کوجدا کیا ہے کہ آج دینی ومذہبی جماعتوں کے ہراجتماع میں تشیع عین درمیان میں موجودہے مگرتشیع کوگالیاں دینے والے گندگی کے ڈھیرپرکھڑے ہیں، اب جوانہوں نے گالی اورغلیظ زبان کا راستہ اپنایا ہے یہ ان کی مجبوری اورعاجزی ودرماندگی ہے کہ جب تشیع کا راستہ نہیں روک سکے اور مقابلہ نہیں کرسکے تو دہشت گردی اور قتل کا راستہ اختیار کیا ،یہ بزدل ایسا راستہ اختیارکرتے ہیں،جومنطق وعلم کا مقابلہ نہیں کرسکتا وہ اس قسم کا راستہ اختیارکرتا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ ابھی بات ہو رہی تھی کہ اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان ہونا چاہئے، میں ابھی اس قسم کے بڑے اعلان سے کتراتا ہوں اور میں بڑے اعلانات کے مونڈ میں نہیں ہوں آپ کومعلوم ہے اگر میں اعلان کروں گا تو پاکستان کا کیا بنے گا۔ میں نے چھوٹے چھوٹے دو تین اعلانات کئے تھے جن کا نتیجہ آپ نے دیکھ لیا، مجھے سب کو دیکھنا ہے،تمام مکاتب فکر کو دیکھنا ہے، سنی بھائیوں کو دیکھنا ہے ان کے مقدسات وعقائد کا احترام کرناہے اورمجھےاس ملک کے اندر رہنا ہے لیکن رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹوں مجھے اصولوں پرسودا بازی کی اجازت کسی نے نہیں دی اس لئے میں تمام مکاتب فکرکا احترام کرتا ہوں ان سے مل بیٹھتا ہوں لیکن ہم عزاداری سید الشہداء میں ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لئے تیارنہیں، اب تک عزاداری موقف پرچھوٹے چھوٹے تین اعلانات کئے ہیں ، سب سے پہلا اعلان 3 ستمبر1988 کو کیا تھا کہ ہم 30 ستمبر کوڈیرہ اسماعیل خان جائیں گے اورعزاداری سید الشہدا کے روٹ کو واپس بحال کرائیں گے ،اس وقت بھی جزباتیت میں آکرروٹ تبدیل کیا گیا تھا تو میں نے کہا  کہ اگر پہلے ہم سے بات کی جاتی تو تنگ گلیوں کے بجائے کھلی سڑک پرجلوس کی گفتگو ہو سکتی تھی لیکن اب اگر تم نے طاقت اور دباؤ کا راستہ اختیار کیا ہے توطاقت اوردباؤ کو کبھی ماننے کے لئے  تیارنہیں اورآپ نے دیکھا میرے اعلان پر عزادار پہنچے اوراصلی روٹ پر جلوس جاری ہوا جو آج تک جاری ہے، دوسرا اعلان لال شہباز قلندر کی دربار پرکیا تھا نہ جانے اس سے کیا غلطی ہوئی جو اس طرح کا اعلان کیا تھا جس کے آپ عینی شاہد ہیں ، پھرجب میں نے قلندر شہبازکی دربار میں کھڑے ہوکرعزاداری کی تو عزاداروں  کا سمندرتھا جو سہون شریف قلندر شہباز پہنچے تو اسے اپنا اعلان واپس لینا پڑا اورآج تک قلندر شہباز پرعزادری جاری ہے۔
اورتیسرا اعلان سانحہ راولپنڈی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظرکیا سانحے پرتوکمیشن اپنی اصل ر ائے دے گی لیکن بعد میں جوحالات بنائے گئے اور میڈیائی ذرائع پر روٹ کو تبدیل کرنے کا ایشو بنایا  گیا ہم نے محاذ آرائی اورقوم کو الجھائے بغیر اقدامات کئے19 کے جلوس اسلام آباد میں بھی میں خود گیا اور20 تاریخ کوراولپنڈی کے چہلم جلوس کا آغاز بھی میں نے جا کر کیا، جلوس میں موجود رہااورعزادروں کے ساتھ مل کر عزادری کی اس طرح پنڈی کاجلوس بھی اپنے مقررہ روٹ پر جاری ہوا، ہم عزداری پرکسی قسم کا سمجھوتہ اورسودا بازی نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے اور دہشت گرد ہمیں عزاداری امام حسین سے نہیں روک سکتے ۔
حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجدعلی نقوی نے کہا کہ آج ہمارے ملک کی بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ قانون پر عمل درآمد نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے قاتل آزاد ہیں اور بے گناہوں کا خون تسلسل کے ساتھ بہہ رہا ہے لیکن اس سلسلے میں حکومت نے اب تک کو پالیسی نہیں بنائی،حکومت قاتلوں کو انصاف کے کٹہڑے میں لائے تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ عوام کے جان ومال کو تحفظ دیناحکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے ،حکومت عوامی تحفظ کے لئے سکورٹی پالیسی وضع کرے ، ہم انتظار میں ہیں حکومت اپنی پالیسی کا اعلان کرے – میں اپنے ساتھیوں سے کہہ چکا اگرحکومت نے سکورٹی پالیسی وضع نہ کی تو پھر ہم وضع کریں گے پھر دیکھتے ہیں اس ملک میں تکفیری غلیظ نعرے کس طرح لگتے ہیں ۔ انہوں نے شہید مولانا دیدارعلی جلبانی کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور شہید کے بلندی درجات کیلئے خصوصی دعا کی اس موقع پر شیعہ علماء کونسل سندھ کے صوبائی اورضلعی رہنمائوں نے بھی خطاب کیا ۔