لاہور ( ) شیعہ علما کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے باب دوستی چمن پر افغان شرپسندوں کی طرف سے پاکستانی پرچم نذر آتش کرنے اوربھارتی وزیر اعظم مودی کے بلوچستان اور گلگت کے بارے میں ریمارکس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دے تاکہ وہ اپنی آزادی کو حاصل کرسکیں۔ ادھر ادھر کی مارنے سے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دبایا نہیں جاسکے گا۔ کشمیر ی اپنا حق لے کر ہی رہیں گے۔ کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ کشمیریوں نے حق خود ارادیت کے مطالبے کے لئے گرانقدر قربانیاں دی ہیں۔ کسی قوم کوزیادہ دیر محکوم نہیں رکھا جاسکتا، کشمیری اپنا حق لے کر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے احتجاجی مظاہروں میں مودی کے پتلے اور بھارتی ترنگا جلا کر اپنا رد عمل ظاہر کردیا ہے کہ کرائے قاتلوں سے جتنی بھی تخریب کاری کروالی جائے ، صوبے کے عوام اپنے ملک سے مخلص ہیں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبے کے پشتی بان ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، جبکہ کشمیر ایک متنازع علاقہ،جس پر بھارت ناجائز طور پر قابض ہے۔اور عوام اپنا حق خودارادیت حاصل کرنے کے لئے سڑکوںپر احتجاج کررہے ہیں۔ افغان حکومت کو اس کی کیا تکلیف ہے۔ پاکستان تو کشمیر میں فریق ہے، افغانیوںکو پاکستان کی 40۔ سالہ میزبانی کو نہیں بھولنا چاہیے۔ شیعہ علما کونسل کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ مودی سفارتی آداب بھول گئے ہیں، وہ ہرزہ سرائی پر معافی مانگیں اور اپنے عوام کو سیاسی اور آزادی کے حقوق دیں۔ اقلیتوں پر جو مظالم بھارت کے اندر جاری ہیں، اسی وجہ سے علیحدگی پسند تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ کشمیریوں کا ساتھ دیا ہے، انشااللہ آئندہ بھی ان کی وکالت کرتے رہیں گے۔