• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

جعفریہ پریس – شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کا قم کا دورہ جاری ہے جس  تنظیمی کارکنان ایک کی

10مئی نماز مغربین کے بعد علامہ واحدی کی جامعہ روحانیت گلگت،بتستان سے میٹنگ ہو ئی اس مٹینگ کا اصلی ھدف جامعہ روحانیت کا علامہ واحدی کو  آنے والے آیند ہ انتخابات سے اگاہ کرنا اور انتخابات کے حوالے سے چھار نکاتی ایجنڈہ پیش کیا

اول: شعیہ علماء کونسل اورمجلس عمل مل کرایک نمایندہ کی معرفی کریں۔

دوم: ھر حلقہ میں اکثریت کو دیکھ کر نمایندہ کا انتخاب کریں۔

سوم: اگر ایسا ممکن نہ ہو تو قرعہ کشی کی جائے۔

چھارم: یا یہ ہے کہ کوئی بھی شعیہ پلیٹ فارم انتخابات میں حصہ نہ لیں عوام کو اپنے حال پے چھوڑ دین،

اس کے جواب میں علامہ واحدی صاحب نے جامعہ روحانیت کی پیشنھادات اور درد دل کو سراہا اور ھر قسم کی پیشنھادات کو دوسرے پلیٹ فارم سے ہم آھنگی کے لیے آمادہ ہونے کو کہا اور علامہ واحدی نے کہا کہ ہم ہمیشہ علماء کے فرمودات کے ہایبند رہے ہیں  اس بات کو ہم گزشتہ انتخابت میں ثابت کر چکے ہیں اب بھی ہم  علما کی ہدایت کے منتظر ہیں،اس وجہ سے ہم نے انتخابات میں آنے کا اعلان کیا لکین کمپین شروع نہیں جبکہ دوسرے پلیٹ فارم سے شروع ہو گئی ہے18 مئی کا پروگرام بھی اسی حوالے سے ہے دوسرے پلیٹ فارم والے اس فیصلہ تک اپنے کمپین روک دیں اور اعلان کریں کہ اس الیکشن کے حوالے سے جو  علما فیصلہ دیں اس پر عمل کیا جائے گا میں بھی قم سے یہی اعلان کرتا ہوں۔۔۔

اور قائد ملت جعفریہ کی سیاسی پالیسی کے بارے میں کہا کی علامہ صاحب ھر علاقے کی تجاویز کے مطابق اس علاقے کے بارے میں اپنا فیصلہ دیتے ہیں اور کہا کی ہم دو دقوموں کےساتھ ھرگز  نھیں مل سکے ایک وہ جو قوم پرست ہیں اور دوسری وہ جن کا تعلق تکفیری گروہ سے یا ان کے نظریات کی حمایت کرنا ہو،

جلسہ کے آخر میں علما و فضلاء نے  اپنے سولات و اشکلات کئے جس کا علامہ صاحب نے احسن انداز سے جواب دیا حتی پاکستان میں قوم شیعہ کے خلاف ہونے والی سازشوں سے اگاہ کیا اور حقایق کو بیان کیا۔۔۔۔۔اس جلس کا ختتام دعا امام زمانؑ سے ہوا۔