• علامہ رمضان توقیر سے علامہ آصف حسینی کی ملاقات
  • علامہ عارف حسین واحدی سے علماء کے وفد کی ملاقات
  • حساس نوعیت کے فیصلے پر سپریم کورٹ مزیدوضاحت جاری کرے ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ شبیر میثمی کی زیر صدارت یوم القد س کے انعقاد بارے مشاورتی اجلاس منعقد
  • برسی شہدائے سیہون شریف کا چھٹا اجتماع ہزاروں افراد شریک
  • اعلامیہ اسلامی تحریک پاکستان برائے عام انتخابات 2024
  • ھیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کی جانب سے مجلس ترحیم
  • اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا
  • مولانا امداد گھلو شیعہ علماء کونسل پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر منتخب
  • اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام فلسطین و کشمیر کانفرنس

تازه خبریں

سفر مدینہ ۲۸ رجب کی مناسبت سے قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

سفر مدینہ ۲۸ رجب کی مناسبت سے قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

راولپنڈی/ اسلام آباد 08فروری 2024ء ( جعفریہ پریس پاکستان   )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 28رجب المرجب کو مدینے سے روانگی کی مناسبت سے پیغام میں کہا کہ نواسہ رسول کی جدوجہد کے کئی مراحل ہیں۔پہلے مرحلے پر اسلام کے آفاقی اور عادلانہ نظام کی سربلندی کے لیے یزید کی ناجائز خلافت پر بیعت سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ مثلی لایبایع مثلہ دوسرے مرحلے پر حق کی سربلندی کیلئے آباﺅ اجداد کا وطن مدینہ چھوڑ دیا اور چھوڑتے وقت یہ پیغام دیا کہ میں نانا کی امت کی اصلاح کیلئے جارہا ہوں ،حق کی سربلندی کیلئے ایسی جدوجہد بہت بڑی قربانی ہے ۔
  علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ نواسہ رسول اکرم حضرت امام حسین ؑ نے واقعہ کربلا سے قبل مدینہ سے مکہ اور مکہ سے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرکے کربلا کے سفر کے دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز سے اظہار کیا اوردنیا کی تمام غلط فہمیوں کو دور کردیا،موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیارنہ ہوئے یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی طرف سے ہر قسم کی مالی‘ دنیاوی ‘ حکومتی اور ذاتی پیشکش کو ٹھکرایا اور صرف قرآن و سنت اور اسلام کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دی۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام عالی مقام کی بے مثال جدوجہد اور تحریک کربلا سے آج بھی دنیائے عالم میں چلنی والی آزادی و حریت کی تحریکیں استفادہ کررہی ہیں اور چونکہ امام حسین ؑ کی جدوجہد ایک تحریک اور نظام کا نام ہے اس لئے ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ‘ غیر منصفانہ‘ ظالمانہ، اور آمرانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں امام کی جدوجہد ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ معاشروں کے تمام حاکم طبقات اور محروم و مظلوم طبقات امام حسین ؑ کی جدوجہد سے استفادہ کرسکتے ہیں کیونکہ آپ نے فقط ایک مذہب یا مسلک یا امت کی فلاح کی بات نہیں کی بلکہ پوری انسانیت کی نجات کی بات کی ہے۔ البتہ خصوصیت کے ساتھ محروم‘ مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کی بے قاعدگیوں‘ بے اعتدالیوں‘ بدعنوانیوں‘ کرپشن‘ اقرباءپروری‘ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور شہریوں کے مذہبی‘ شہری اور قانونی حقوق کی پامالی کی طرف بھی نشاندہی فرمائی۔ امام حسین ؑ کے اس اجتماعی انداز سے آج دنیا کا ہر معاشرہ اور ہر انسان بلا تفریق مذہب و مسلک استفادہ کرسکتا ہے۔