• علامہ شبیر حسن میثمی کی ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی اور ان کے رفقاء کی شہادت پر تعزیت
  • علامہ عارف حسین واحدی نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے ملاقات کی
  • علامہ سید اسد اقبال زیدی شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کے صدر منتخب
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کا صدارتی انتخاب کل ہوگا
  • اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں
  • کسانوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پرحل کیا جائے علامہ شبیر میثمی
  • “شہدائے جے ایس او پاکستان کی قربانیوں اور انکی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔” مرکزی صدر
  • ہم مسلسل گلگت، بلتستان کے عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں علامہ شبیر میثمی
  • ایرانی صدر کی اقتداء میں نماز مغربین شیعہ علماء کونسل کے رہنماؤں کی ملاقات
  • اسلامی تحریک پاکستان کے وفد کا گلگت بلتستان کا دورہ

تازه خبریں

قائد ملت جعفریہ پاکستان کا علامہ مشتاق حسین ہمدانی کی برسی پر پیغام

قائد ملت جعفریہ پاکستان کا علامہ مشتاق حسین ہمدانی کی برسی پر پیغام

راولپنڈی / اسلام آباد۔ 11 مئی 2024 ء( جعفریہ پریس پاکستان  ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے معروف عالم دین‘ ممتاز مذہبی و سماجی شخصیت اور مرکزی رہنما علامہ مشتاق حسین ہمدانی کی ساتویں برسی کے موقع پر مرحوم کے خانوادے‘ شاگردان اور عقیدتمندوں سے تسلیت کا اظہار کرتے ہوئے انکے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔ اس موقع پر قائد ملت کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے ہونہار شاگرد کی حیثیت سے علامہ مشتاق ہمدانی مرحوم نے نہ صرف ایک ذہین و فطین طالب علم‘ ایک بہترین استاد و مدرس کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوںکو منوایابلکہ عملی زندگی میں فلاحی و رفاہی عوامی شعبوں میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیں اسی طرح مدارس دینیہ کے فروغ اور اتحاد بین المسلمین کی ترویج کی لئے بھی ان کی خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی بلاشبہ انکی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا اسے پر کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں۔ قائد ملت جعفریہ کے مطابق علامہ مشتاق ہمدانی مرحوم ایک ملنسار اور اخلاص کے پیکر کی شکل میں علمی و دینی حلقوں میں مقبول تھے ۔انکی شخصیت کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ابتدا سے ہی ملی پلیٹ فارم سے وابستہ و مربوط رہے یہی وجہ ہے کہ آخری دم تک صوبائی اور مرکزی سطح کی ذمہ داریاں بطریق احسن انجام دیتے رہے اور کسی مجبوری یا معذوری کو آڑے آنے نہ دیا۔قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ہم ایسے وقت میں ان کی یاد منارہے ہیں جب ایسی ہمہ جہت اور بے پناہ صلاحیتوں کی مالک شخصیات کی موجودگی عہد حاضر کی ضرورت ہے تاہم ان کی شخصیت کے ان مختلف پہلوﺅں کو مشعل راہ بناکر توانا ملی آواز بننے کی سعی و کوشش ضرور کی جاسکتی ہے اور انکی بے لوث اور گرانقدر خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا طریقہ بھی یہی ہے کہ مختلف میدانوں میں جاری ان کی جدوجہد کو آگے تک لے جایا جائے