• ٹیکسز کی بھر مار کا بجٹ، عوام سے محبت نہیں دشمنی کےمترادف ہے
  • مالی سال 2024-25 کے تعلیمی بجٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مرکزی صدر جے ایس او پاکستان
  • امام خمینی کی برسی پر علامہ شبیر حسن میثمی کا پیغام
  • پاک ایران بارڈر پر پھنسے زائرین کا مسئلہ فوری حل کیا جائے شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کی نو منتخب کابینہ کی حلف برداری
  • ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت عالم اسلام کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے
  • ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی اشتہار ناکافی ہے امن و امان کو تہہ و بالا کرنیوالوں کو نظراندازکردیاگیا
  • جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مرکزی کابینہ کا اعلان کردیا گیا
  • علامہ شبیر حسن میثمی کی ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی اور ان کے رفقاء کی شہادت پر تعزیت
  • علامہ عارف حسین واحدی نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے ملاقات کی

تازه خبریں

مالی سال 2024-25 کے تعلیمی بجٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مرکزی صدر جے ایس او پاکستان

مالی سال 2024-25 کے تعلیمی بجٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مرکزی صدر جے ایس او پاکستان

ہم مالی سال 2024-25 کے تعلیمی بجٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مرکزی صدر جے ایس او پاکستان

مستحق طلباء کے لئے اسکالرشپس اور طلباء کی فیسوں میں کمی کو یقینی بنایا جائے۔

پریس ریلیز/ راولپنڈی/ 04 جون 2024/ مرکزی صدر جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان برادر محمد اکبر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مالی سال 2024-25 کے تعلیمی بجٹ پر نظر ثانی کریں اور طلباء کو اعلی تعلیم میں حائل رکاوٹوں کا سد باب کیا جائے تاکہ پاکستان ترقی یافتہ اقوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہو سکے انہوں نے مزید کہا کہ طلباء کی تعلیمی بجٹ پر انتہائی کم ہے جس پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ مرکزی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم پُرامید ہیں کہ ملک میں تعلیم کو پہلے سے زیادہ فوقیت دی جائے گی اور تعلیمی حوالے سے درپیش مسائل کو باآسانی حل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں، طلباء کو اعلیٰ تعلیم میں حائل رکاوٹوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مستحق طالبعلموں کو اسکالرشپس کی فراہمی و طلباء کی فیسوں میں کمی کو یقینی بنایا جائے انہوں نے مزید اس بات پر زور دے کر کہا کہ پاس آؤٹ ہونے والے طلباء کے لیے روزگار کا انتظام کیا جائے، طلباء کی زندگی میں مشکلات کے حل کے لئے آسان قرضے دیئے جائیں تاکہ انکی تعلیم متاثر نا ہو۔