2025ء سامراجی و صہیونی مظالم کے ساتھ رخصت ہوا، سال نو خود احتسابی اور عدل کے قیام کا تقاضا کرتا ہے
سربراہ اسلامی تحریک، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا سال نو 2026ء پر پیغام
سربراہ اسلامی تحریک، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سال نو عیسوی 2026ء کے آغاز پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ نئے سال کا آغاز خود احتسابی، ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرانے اور عدل و انصاف کے قیام کے عہد کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2025ء اگرچہ گزر چکا ہے، مگر اس کے زخم آج بھی غزہ، ارضِ فلسطین اور دیگر مظلوم خطوں میں نمایاں ہیں۔
سربراہ اسلامی تحریک، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سال نو عیسوی 2026ء کے آغاز پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نئے سال کا آغاز خود احتسابی اور ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرانے کے عہد کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء گزر چکا ہے مگر اس کے زخم آج بھی نمایاں ہیں اور گزشتہ سال کے ظلم و جبر کی داستانیں غزہ سمیت ارضِ فلسطین آج بھی سنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کا ایک اور سال جبر، ظلم اور ناجائز قبضے کی نذر ہو گیا جبکہ لبنان، شام اور خطے کی مجموعی صورتحال کے باعث امتِ مسلمہ گزشتہ سال بھی سوگوار رہی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ دن دور نہیں جب ظلم کا خاتمہ ہوگا اور دنیا میں عدل کا نظام قائم ہوگا۔
سربراہ اسلامی تحریک نے کہا کہ پاکستان کے عوام بھی ایک طویل عرصے سے لاقانونیت، افراتفری، مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ہیں۔ کرم، پارا چنار سمیت مختلف علاقوں کی صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام آج بھی پائیدار امن اور تحفظ کے آرزو مند ہیں اور عدم تحفظ، بے چارگی، غربت، پسماندگی اور ذہنی اذیتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال اور گزر گیا مگر نہ تو نظام درست ہوا اور نہ ہی عام آدمی کے مسائل حل ہو سکے بلکہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے اثرات بدستور موجود رہے، جو آج بھی کرم اور پارا چنار کی صورتحال سے واضح ہیں، جبکہ عوام امن و استحکام کے متلاشی ہیں۔
سال نو کے آغاز پر عام آدمی یہ سوال کرنے پر مجبور ہے کہ کب عوام دوست پالیسیاں مرتب کی جائیں گی، کب عوام کی امیدوں کی بارآوری ہوگی، کب ان کی مشکلات کا خاتمہ ہوگا اور کب ملک کی ترقی و خوشحالی کا سورج طلوع ہوگا، نیز کب عوام کو مساوی اور یکساں حقوق کی فراہمی کے ساتھ حقیقی انصاف میسر آئے گا۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ یہ دنیا کی ایک روایت بن چکی ہے کہ جب نیا سال شروع ہوتا ہے تو حکمران، سیاسی جماعتوں کے سربراہان، سماجی و انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذمہ داران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تجدیدِ عہد کے بیانات جاری کرتے ہیں اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ گزشتہ سال کی کوتاہیوں اور غلطیوں سے سبق حاصل کیا جائے گا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب سال کا اختتام ہوتا ہے تو صورتحال پہلے سے بھی زیادہ بدتر نظر آتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قول و فعل میں تضاد برقرار رہتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صاحبانِ اقتدار محض بیانات کے بجائے اپنے عملی اقدامات سے ثابت کریں کہ آنے والا سال ارضِ وطن کے لیے داخلی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی استحکام کا باعث بنے گا۔