اسلام آباد، 20 دسمبر 2025ء:
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ عالمی انسانی یکجہتی کی سب سے زیادہ ضرورت آج اہلِ فلسطین خصوصاً غزہ کو ہے، جہاں ایک طرف وہ ظالم و قابض صہیونی جبر و ظلم کا شکار ہیں اور دوسری جانب شدید سرد موسم میں بے یار و مددگار حالات سے دوچار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی بقاء کیلئے سامراج و صیہونیت کے وحشیانہ گٹھ جوڑ اور ظالمانہ کردار کو روکنا ناگزیر ہوچکا ہے، کیونکہ یہی عناصر دنیا بھر میں انسانی حقوق، امن اور انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے عالمی انسانی یکجہتی کے یوم کے موقع پر اپنے پیغام میں اس امر کی نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر لبنان، شام، سوڈان، کشمیر اور روہنگیا کے عوام بھی انسانی یکجہتی کے منتظر ہیں، جہاں دہائیوں سے جاری مظالم عالمی ضمیر کیلئے سوالیہ نشان ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسانی یکجہتی کیلئے اولین اصول انصاف، مساوات اور امن ہیں، لیکن افسوس کہ آج انسانی یکجہتی کو سب سے زیادہ خطرات خود انسانوں کے بنائے گئے ظالمانہ اور غیر منصفانہ نظام سے لاحق ہیں۔ دنیا میں حقیقی یکجہتی کیلئے ایسا عادلانہ نظام ناگزیر ہے جو تمام انسانوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور انہیں امن و سلامتی فراہم کر سکے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے یاد دلایا کہ اگرچہ 2005ء سے عالمی انسانی یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے، لیکن اکیسویں صدی میں بھی گزشتہ صدیوں کے مظالم، جنگیں اور قبضے نہ صرف جاری ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ خطرناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا میں امن کی کنجی صرف اور صرف انسانی یکجہتی ہے، جو خاندانوں، معاشروں، ریاستوں اور پوری دنیا کو امن فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو درپیش مسائل، چاہے وہ امن و امان کے ہوں، باہمی مساوات و حقوق کے ہوں یا موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق، سب کا سبب انسان کا خود ساختہ نام نہاد نظام ہے، اور یہی فرسودہ نظام دنیا میں امن، مساوات اور انسانی یکجہتی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ عالمی انسانی یکجہتی کیلئے فنڈز اور اقدامات کے اعلانات تو کیے گئے، مگر اسی صدی میں افغانستان اور عراق پر بے دریغ بمباری کی گئی، مڈل ایسٹ اور برما میں مظالم ڈھائے گئے، جبکہ غزہ، بیروت اور دمشق کو سامراج و صیہونیت کے مظالم کا تختہ مشق بنا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں اور خواتین کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے، اور یہ مظالم مسلط کردہ معاہدوں کے باوجود آج بھی اپنی بدترین شکل میں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف یومِ یکجہتی منانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ اقوام متحدہ کو اپنے چارٹر اور قراردادوں پر سختی سے عملدرآمد کرانا ہوگا۔
آخر میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے واضح کیا کہ عالمی انسانی یکجہتی میں سب سے بڑی رکاوٹ سامراجیت اور صیہونیت کا ظالمانہ کردار ہے، جسے روکے بغیر دنیا میں پائیدار امن اور حقیقی انسانی یکجہتی کا قیام ممکن نہیں۔