علماء و ذاکرین کانفرنس کا بیانیہ جاری

علماء و ذاکرین کانفرنس کا بیانیہ جاری

بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَ تَذۡهبَ رِیۡحُکُمۡ وَ اصۡبِرُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ(انفال 46)

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں نزاع نہ کرو ورنہ ناکام رہو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو، بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

تہذیب و شائستگی ،قانون پسندی ، ذمہ دارانہ طرز عمل اورحب الوطنی ملت جعفریہ کا طرہ امتیاز ہے۔ ملت جعفریہ نے ہزاروں قمیتی جانوں کی قربانی دے کر قومی سلامتی اور بین المسالک ہم آہنگی کو استوار رکھااور داخلی وحدت پر آنچ نہیں آنے دی ۔
ہم وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب اور مقتدر اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جن عناصر نےوطن عزیز کو عدم استحکام کا شکار کیا وہی شرپسند عناصر فرقہ واریت پھیلا کر غیر ملکی وطن دشمن ایجنڈےکو تقویت دے رہے ہیں ان تکفیری عناصر کے خلاف بلاتفریق کاروائی کی جائے ۔
وطن عزیز کی حفاظت و بقاء کے لیے ہماری شرعی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مسلمہ مقدسات کا احترام کریں ۔ہمارے بزرگ مراجع عظام اپنا واضح موقف دے چکے ہیں کہ کسی بھی فرقے یا مسلک کے مسلمہ مقدسات کی توہین و بے احترامی قطعی حرام اور ممنوع ہے۔
تمام علماء کرام کی محنتوں اور کاوشوں سے مسالک کے درمیان فروعی اختلاف کے باوجودقائم اتحاد اور بھائی چارہ شرپسند عناصر کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ہم ہمیشہ کی طرح باہمی اتحاد اور بھائی چارے سے کسی بھی منفی ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ پرامن فضا قائم رکھنے کے لئے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لائیں گے۔ ہم تمام مسالک اور مکاتب فکر کےپیروکاروں سے یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ایسی کسی بھی توہین آمیز گفتگو ،تحریر یا اقدام سے گریز کیا جائے جو دوسرے مسلک کے افراد کی دل آزاری اور ملکی عدم استحکام کا باعث بنے۔ کیونکہ ہمارا ملک اس وقت اس قسم کی فرقہ واریت اور منافرت کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔
یہ اجلاس پاکستان میں بسنے والے ہر دین و مذہب خصوصا مذہب شیعہ کے تمام فکری و مادی حقوق کی ضمانت کا مطالبہ کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ ملت جعفریہ اپنے بنیادی عقائد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی کیونکہ اپنے عقائد کی تبلیغ و ترویج ہمارا آئینی و قانونی حق ہے اس میں کسی قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ اجلاس اعلان کرتا ہے کہ شیعہ مراجع تقلید کے فتاوی کی روشنی میں مذہب شیعہ دیگر تمام ادیان مذاہب اور مسالک کے مسلمہ مقدسات کی توہین کو جائزنہیں سمجھتا اسی لیےآج تک کسی ذمہ دار عالم نے ایسا نہیں کیا۔ہم توہین کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے اعلان لا تعلقی کرتے ہیں ۔ہم ایسے اقدامات روکنے میں اپنا ہرممکن کردار ادا کرتے رہیں گے۔
یہ اجلاس کسی بھی جانب سے دوسروں پر اپنے عقائد مسلط کرنے کی مذموم کوشش کی شدید مذمت کرتا ہےاور اسے فکری دہشت گردی قرار دیتا ہے۔
یہ اجتماع پنجاب اسمبلی میں پیش کردہ تحفظ بنیاد اسلام بل کو متنازع قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کرتا ہے۔
آج کا یہ نمائندہ اجتماع اس بات پر تاکید کرتا ہے کہ سب مسالک مل کر دشمن کی مذموم سازش کو ناکام بناتے

علماء وذاکرین کانفرنس
12ستمبر 2020
قراردادیں

1) آج کا یہ عظیم الشان اجتماع فرانس سے شائع ہونےوالے چارلی ایبڈو میگزین میں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان اقدس کےحوالےسے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں اور سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے مذموم واقعے کی پرزور مذمت کرتاہے۔

2) یہ اجتماع عرب امارات، بحرین اوردیگر عرب ممالک کے اسرائیل کےساتھ تعلقات کی بحالی کو فلسطینی موقف سے کھلا انحراف سمجھتے ہوئے اس صورتحال پر اپنے غم و غصہ کا اظہارکرتاہے۔

3) علماءوذاکرین کانفرنس کا یہ عظیم الشان اجتماع مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان پر توڑے جانے والے بھارتی مظالم کی شدید مذمت کرتا ہے۔

4) پاکستان کا آئین اپنے تمام شہریوں کو اظہار رائے کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے اور ملت تشیع اس کی دفاعی و نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے ۔اس ملت نے طول تاریخ میں ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی دے کر وطن عزیز کو عدم استحکام کا شکار ہونے سے بچایا ہے اور کسی بھی صورت شرپسند عناصر کو فرقہ واریت پھیلانے کا موقع نہیں دیا۔اور نہ ہی آئندہ اس قسم کی کسی کوشش کو کامیاب ہونے دیاجائےگا۔

5) یہ عظیم الشان اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ملک بھر میں مجالس عزا اور روایتی جلوسوں کے خلاف جو ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں ان کو فی الفور واپس لیا جائے اوریہ اجتماع یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عزاداری سید الشہداء کے راستے میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا لہٰذا ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے ورنہ حالات کی تما م ترذمہ داری ارباب اختیار پر ہوگی۔

6) شیعہ قوم کےقائدین و بزرگان پوری امت کو ہمیشہ اتحاد ووحدت کی دعوت دی ہے اور فرقہ واریت پھیلانے والے تمام عناصر کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔

7) شیعہ قوم کے قائدین و بزرگان ایک غیر ذمہ دار شخص کی طرف سےہونےوالی گستاخی سےبیزاری کااعلان کرتےہیں اور ایک فرد کی دریدہ دہنی کوجوازبناکرشیعہ قوم کےخلاف اسی نوعیت کی دریدہ دہنی کو غیر شرعی اورسنگین جرم قراردیتےہیں۔

8) یہ اجتماع پنجاب اسمبلی کےاجلاس میں پیش کردہ تحفظ بنیاد اسلام بل کو متنازع قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کرتا ہے جبکہ اس حوالے سے پہلے سےہی قانون موجود ہے لہٰذا تحفظ بنیاد اسلام جیسے متنازعہ بل کو فی الفور واپس لیاجائے۔

ہوئے وطن عزیز میں ہر قسم کی منافرت اور فرقہ واریت کے خلاف اپناکردار ادا کریں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here