تازه خبریں

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 23مارچ 2016کے موقع پر خصوصی پیغام

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 23مارچ 2016کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میںکہا کہ کہ قرارداد پاکستان جہاں عوام کو وطن دوستی اور حب الوطنی کی طرف متوجہ کرتی ہے وہاں حکمرانوں کو جمہوریت ‘ انصاف اور سا لمیت و خودمختاری کی حفاظت جیسی ذمہ داریوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ بانی پاکستان حضرت قائد اعظمؒ اور مصور پاکستان علامہ محمد اقبال ؒنے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا آج ہمیں دور دور تک وہ پاکستان نظر نہیں آتا۔ بلکہ پاکستان کے حالات قراردادپاکستان کے بالکل مخالف اور متضاد سمت میں نظر آتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہی رہا ہے کہ ہمارے حکمران طبقے قراردادپاکستان پر عمل کرنے کی بجائے اقتدار اور مفادات کا کھیل کھیلتے رہے ہیں جبکہ عوام کو مسائل کا شکار کرکے حکمرانوں کے احتساب کا راستہ بند کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے خرابیوں اور آلائشوں میں مزید اضافہ ہوتا گیا اور ملک ہر قسم کی آئینی‘ نظریاتی اور معاشرتی بیماریوں کا شکار ہوکر مریض بن گیا۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستان میں آنے والے تمام حکمرانوں کی تاریخ اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی افسوس کے ساتھ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ قراردادپاکستان میں شامل مقاصد اور اہداف کے ساتھ کتنی ناانصافیاں اور زیادتیاں ہوئی ہیں اور قراردادپاکستان کی روح کو مسخ کرکے بانیان پاکستان کی ارواح کو تڑپایا جارہا ہے۔ ہمارے ملکی آئین اور قانون کی بنیاد بھی قرارداد پاکستان تھی لیکن جس طرح مختلف ادوار میں آئین کو معطل یا منسوخ کرکے ملک کا حلیہ بگاڑا جاتا رہا اس سے قرارداد پاکستان کی توہین ہوئی ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستان کو لاحق تمام خطرات اور امراض کا شافی علاج یہی ہے کہ سب سے پہلے عوام بیدار‘ متحد اور منظم ہوں۔ قرارداد پاکستان کی روح کو زندہ کرتے ہوئے تحریک پاکستان والے جذبے کو بیدار کریں‘ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لئے جدوجہد کریں اور جمہوریت‘ انصاف اور اسلامی اقدار کے قیام اور آمریت کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں۔ پاکستانی معاشرے کو ناانصافی‘ ظلم‘ بے عدلی ‘ کرپشن‘ دہشت گردی‘ رشوت ستانی‘ فحاشی‘ عریانی‘ لاقانونیت اور دیگر معاشرتی برائیوں سے پاک کرکے ایک اسلامی‘ فلاحی‘ جمہوری اور نظریاتی مملکت بنانے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کریں اور اس راستے میں بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کریں۔