شیعہ علماء کونسل پاکستان کی حقوق نسواں بل پر اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے کی تائیدحقوق نسواں کے نام پر خاندانی نظام تباہ کرنے کی سازش ناکام بنائینگے، سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان﴾اسلام آباد04 مارچ 2016ء ( جعفریہ پریس شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہاہے کہ پاکستان اسلام کے نام پروجود میں آیا، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کسی قسم کی قانون سازی تسلیم نہیں کرسکتے اورحقوق نسواں بل کے نام پر معاشرے کابہترین خاندانی نظام تباہ کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے علمائے کرام کے مختلف وفود سے ملاقاتوں کے دوران کیا جنہوں نے سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھاکہ پنجاب اسمبلی کی جانب سے منظور کئے گئے حقوق نسواں بل کا اسلامی نظریاتی کونسل نے بغور اورشق وار جائزہ لے کر جن نکات کی نشاندہی کی اور اسے مسترد کردیا، اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ دوران گفتگو علامہ واحدی کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا، اسلامی ملک کہلانے والے اس پاک سرزمین پر کسی قسم کی غیر آئینی و غیر اسلامی قانون سازی تسلیم نہیں کرسکتے ، جب 73ء کے متفقہ آئین میں واضح کردیاگیاہے کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون سازی غیر اسلامی نہیں ہوسکتی توپھر کیوں ایسے غیر اسلامی قوانین بنائے جارہے ہیں؟علامہ عارف واحدی کا کہنا تھا کہ اسلام نے خواتین کو جتنے حقوق دیئے وہ کسی بھی اور تہذیب ، معاشرے یا مذہب میں نہیں ہیں۔ تعلیم سے لے کر خاندانی اور پیشہ وارانہ سرگرمیو ں تک کی شریعت میں واضح ہدایات موجود ہیں لیکن افسوس حقوق نسوا ں کے نام پر معاشرے کا بہترین خاندانی نظام تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے جسے ہم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔اسلام نے مرد و خواتین کو یکساں حقوق فراہم کئے ہیں لیکن جس طرح ایک سازش کے تحت معاشرے میں دانستہ اور غیر دانستہ طور پر بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ انتہائی تشویش ناک امر ہے جو ناقابل برداشت ہے۔