تازه خبریں

تمام مسائل کا حل قانون کی حکمرانی میں ہے سنگین غداری کیس پیر 66 انسانی اسلامی اقدار کے منافی ہے

تمام مسائل کا حل قانون کی حکمرانی میں ہے سنگین غداری کیس پیر 66 انسانی اسلامی اقدار کے منافی ہے

تمام مسائل کا حل قانون کی حکمرانی میں ہے سنگین غداری کیس پیر 66 انسانی اسلامی اقدار کے
منافی ہے
انسانی حرمت بارے اسلام کے واضح احکامات ہیں،علامہ عارف حسین واحدی
سنگین غداری کیس فیصلہ میں پیرانمبر66 انسانی اوراسلامی اقدارکے منافی ہے،سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل
قائد ملت جعفریہ کا واضح پیغام ،تمام مسائل کاحل آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی، تمام ادارے آئینی دائرہ کار میں رہ کر خدمات انجام دیں۔

اسلام آباد 20 دسمبر 2019ء(    جعفریہ پریس)شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ سنگین غداری کیس کے فیصلہ کا پیرانمبر66انسانی اوراسلامی اقدارکے منافی ہے۔ اسلام میں انسانی جان ، نعش حتیٰ کہ مردہ حیوان کے بارے میں بھی واضح احکامات و حرمت موجود ہے۔ علاوہ ازیںفیئر ٹرائل کا حق ہر ایک شہری کو حاصل ہے۔ بہترہوتاکہ ملزم کوصفائی کامزیدموقع دے کر اور سن کر کیس کافیصلہ سنایاجاتا۔
اِن خیالات کا اظہار انہوںنے مرکزی دفتر میں گزشتہ روز سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلہ پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ سنگین غداری کیس کے فیصلہ میں پیرانمبر66 جو خصوصی عدالت کے سربراہ کی جانب سے درج کیا گیا انسانی اوراسلامی اقدارکے منافی ہے ۔ آئین ِ پاکستان میں جزا و سزا کے حوالے سے گائیڈ لائنز واضح ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام میں انسانی جان یا بعد از مرگ اس کی نعش تک کی حرمت بارے واضح احکامات ہیں چہ جائیکہ مرنے کے بعد کسی کی لاش کوسرعام چوک پر لٹکایا جانا کس طرح سے منصفانہ اقدام ہوسکتاہے؟ہم ایک مہذب دنیا، مہذب معاشرے میں رہتے ہیںاس لئے کسی ملزم کوسزادیتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیناچاہیے۔ ایسی منصفی پر سوال اٹھنا شروع ہوجاتے ہیںجو نظام ِعدل پر تنقید کا باعث بنے۔
اُنہوں نے قائد ملت جعفریہ پاکستان کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہی تمام مسائل کا حل ہے جس کی طرف ہم عرصہ درازسے توجہ مبذول کراتے آئے ہیں اگر اِس طرف سنجیدگی سے عمل شروع ہوجائے تو نہ صرف ملکی مسائل حل ہونگے بلکہ ملک سیاسی و معاشی طور پر بھی مستحکم ہوگا ۔ خارجی معاملات میں خود مختاری کے ساتھ داخلی معاملات پربھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے۔ تمام سٹیک ہولڈرز داخلی اورخارجی نوعیت کے اہم معاملات اور حساس مسائل پر مل بیٹھ کرملک وقوم کے مفادمیں متفقہ فیصلے کریں۔لیکن افسوس آج تک اس اہم معاملے پر جو قومی مکالمہ ہونا چاہیئے تھا اس جانب کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایاگیاجس کے نتیجے میں آج ٹکراﺅ کے تاثر کوتقویت مل رہی ہے جسے فوری طورپرزائل کرنے کی اشدضرورت ہے۔