اہم خبر و پیشرفت :
سپریم کورٹ پاکستان میں نافذ عائلی قوانین کا معاملہ تمام فقہ کی طرح شیعہ مسلمانوں کے فیصلے بھی ان کے فقہ کے مطابق ہونے چاہئیں
سپریم کورٹ دورکنی بینچ اعجازالافضل کی سربراہی میں شیعہ کے اس حق کو تسلیم کیا کہ عائلی قوانین جو1961م۔۔سے جاری اور نافذ ہیں ان میں شیعوں کو استثناء نھیں دیا جو انکا حق ہے اسی طرح آرٹیکل 7۔میں طلاق کا جوطریقہ کار بیان کیا گیا ہے وہ اس سے مختلف جو شیعہ کا ہے ان کےلئے انکا اپنا طریقہ ہونا چاہئے ۔۔۔البتہ ھم پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حکم نہیں دے سکتے شیعہ نمائدگان خود رجوع کریں۔۔۔وزارت قانون کےذریعہ قانون سازی کا عمل کامیابی سے آخری مراحل میں ہے۔۔۔۔اسکے ساتھ ہم نے سپریم کورٹ کے 26 اکتوبر 2017 کے فیصلہ نظر ثانیکی درخواست دی جسکی آج اعجازالافضل کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے سماعت کی پارلیمنٹ کوآڈر دینے کی درخواست قبول نہیں کی لیکن اس درخواست کو قبول کرلیا کہ عائلی قوانین کے آرٹیکل7۔۔میں شیعہ کے لئے انکی اپنی فقہ کے مطابق ہوں اس فیصلہ رپورٹ کر دیاجائے تاکہ ہر عدالت میں اس فیصلہ کو بطور ثبوت پیش کیا جا سکے معزز دورکنی بینچ نے اسے قبول کر لیا