تہران:
یکم فروری کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ کی تاریخی وطن واپسی، اسلامی انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ اور عشرہ فجر کے آغاز کے موقع پر اتوار کی صبح تہران میں حسینیہ امام خمینیؒ میں عوام کا ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا، جس میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی گئی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ آج کل کبھی جنگ کی بات کی جاتی ہے اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ ہم طیاروں کے ساتھ آئیں گے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی امریکی ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ تمام آپشن میز پر ہیں، اور ان میں جنگ کا آپشن بھی شامل ہوتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ لوگ بار بار دعوے کرتے ہیں کہ ہم نے بحری بیڑے بھیج دیے، ہم نے یہ کیا، ہم نے وہ کیا، لیکن ایرانی قوم کو ان باتوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ ایرانی قوم ایسی دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں ہوتی، وہ حق کے راستے پر ثابت قدم ہے اور کسی ٹکراؤ سے نہیں ڈرتی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے واضح کیا کہ ہم جنگ شروع کرنے والے نہیں ہیں، ہم کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہتے اور کسی ملک پر حملہ نہیں کرنا چاہتے، لیکن اگر کوئی طمع رکھے، حملہ کرے یا ایذا پہنچانے کی کوشش کرے تو ایرانی قوم اسے منہ توڑ جواب دے گی۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے زور دے کر فرمایا کہ امریکی یہ بات بھی جان لیں کہ اگر امریکہ نے جنگ مسلط کی تو یہ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کی جنگ ہوگی۔
انہوں نے امریکہ اور ایران کے تنازعے کو دو لفظوں میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ ایران کو نگلنا چاہتا ہے، جبکہ باشعور ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ ایران اس کے سامنے مضبوط رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران آپ کا ملک ہے، جس میں بے شمار قدرتی اور اسٹریٹجک گنجائشیں موجود ہیں۔ ایران کا تیل، گیس، معدنی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع اسے ایک پرکشش ملک بناتے ہیں، اسی لیے لالچی اور توسیع پسند طاقتیں ہمیشہ اس پر نظر رکھتی ہیں۔
انہوں نے فرمایا کہ تقریباً تیس سال تک امریکی ایران میں موجود رہے، وسائل ان کے قبضے میں تھے، سیاست، سلامتی اور عالمی روابط سب ان کے کنٹرول میں تھے، وہ جو چاہتے تھے کرتے رہے، اور آج بھی وہ پہلوی دور جیسی صورتحال بحال کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایرانی قوم سینہ سپر کیے مضبوطی سے کھڑی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے فرمایا کہ اصل دشمنی یہی ہے اور اصل تنازعہ بھی یہی ہے، جبکہ انسانی حقوق جیسے نعروں کو محض بہانہ بنایا جاتا ہے۔ امریکہ لالچ رکھتا ہے اور ایران مضبوطی سے کھڑا ہے، اور ان شاء اللہ اسی مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔