سیاسی، اقتصادی، سماجی مفادات کا تحفظ کرنےوالی او آئی سی غیر فعال ہوچکی قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
اوآئی سی رکن ممالک نے سنجیدگی نہ دکھائی تو مستقبل میں امہ کو مزید مشکلات درپیش ہونگی ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد 05 دسمبر 2019 (جعفریہ پریس ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں او آئی سی کا بنیادی کام مسلمان ممالک کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی مفادات کے تحفظ کے ساتھ مسلم ریاستوں کے اقتدار کا تحفظ اور رکن ممالک کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا تھا، او آئی سی اپنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوسکی عیاں ہے کسی تبصرے کی ضرورت نہیں اس وقت کشمیر سے فلسطین اور شام تا بحرین ہر طرف آگ و خون کی ہولی ہے، کشمیر میں حالیہ کرفیو کو چار ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کو ہے مگر ابھی تک کوئی واضح موقف اور ٹھوس اقدام سامنے نہیں آسکا، چند اسلامی ممالک کے علاوہ دیگر ممالک ذاتی مفادات کی خاطر کشمیر کا نام تک لینے کو تیار نہیں او آئی سی نے اب بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو امت مسلمہ کو مستقبل میں مزید مشکلات کا سامنا کرناپڑےگا ۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ پہلے ہی امت مسلمہ کو مسئلہ کشمیر وفلسطین جیسے مسائل کا سامنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ حل ہونے کی بجائے مزید پیچید ہ ہوگئے اور بھارتی و اسرائیلی مظالم بڑھ گئے جبکہ پے درپے بحرین، لبنان، عراق، لیبیا، شام اور برما کے مسائل نے جنم لے لیا ، اسلامی تعاون تنظیم جس کے بنیادی مقاصد میں مسلم سیاسی، اقتصادی، سماجی مفادات کا تحفظ، مسلم ریاستوں کے اقتدار کا تحفظ ، رکن ممالک کے درمیان یکجہتی کا فروغ اور سماجی، اقتصادی، ثقافتی، سائنسی اور سیاسی شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ کے ساتھ ترقی یافتہ دنیا کے مقابل کھڑا ہونے کےلئے تعلیم خاص طور پر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کرنا تھی ، ان اہداف کی بجائے مادی اور دیگرمفادات کو ترجیح دینا شرو ع کردی گئی ، جو تنظیم اتحاد کی خاطر معرض وجود میں آئی وہاں مخصوص لابی کے اپنا کام دکھاتے ہوئے اتحاد کی بجائے نفاق کو پروان چڑھانا شروع کردیا اور نتیجتاً او آئی سی عملاً غیر فعال ہوتی چلی گئی اور اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ماسوائے قراردادوں کے کسی قسم کے عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آرہے، آو آئی سی کے رکن ممالک میں سے کبھی بھارت کو مدعو کیا جاتاہے تو کبھی ناجائز صیہونی ریاست کو تسلیم کرنے کےلئے کچھ رکن ممالک دیگر پر دباﺅ بڑھاتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ، جس پر او آئی سی میں اتفاق رائے کے باوجود حالیہ بھارتی ظالمانہ اقدامات کے خلاف موقف ابھی تک سامنے نہیں آسکا،ترکی، ایران اور چند دیگر ممالک کے علاوہ کسی نے اپنے مفادات کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کا تذکرہ تک نہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ مسلم دنیا کے حکمرانوں کو اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ، اگر مسلم ممالک اقتصادی تعلقات کی وجہ سے مجبور ہیں تو کم از کم او آئی سی خود مختار تنظیم ہے اسے مسلم دنیا کو درپیش مسائل پر دوٹوک اور واضح موقف اپنا نا چاہیے اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں البتہ اگر یہ سردمہری جاری رہی تو پھر او آئی سی پر سوالات کی مزید یلغار ہوجائےگی اور اتحاد کی بڑی کوششوں کو بڑا دھچکا لگ سکتاہے اور استعمار ہمیشہ سے اسی کوشش میں رہاہے کہ مسلمانوں میں دراڑ ڈال کر اپنے مذموم مقاصد کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔