• جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بطور چیف جسٹس مبارکباد پیش کرتے ہیں علامہ شبیر حسن میثمی
  • یکم ربیع الاول کے احتجاج کی تیاریوں پر اظہار تشکر مزید تیاری رکھنے پر تاکید دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ سید تقی شاہ نقوی سندھ کے دورے پر
  • امام حسین نے بقائے اسلام کیلئے عظیم قربانی دی، علامہ عارف واحدی
  • شیعہ علماء کرام کا خصوصی وفد گلگت پہنچ گیا علامہ شبیر میثمی وفد کے ہمراہ
  • آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی کے انتقال پر علامہ شبیر حسن میثمی کی تعزیت
  • یــوم آزادی پاکســـتان محبـــت اخوت اور تمام طبقات کےحقوق کا درس دیتا ہے
  • قیادت و تنظیم کے وفادار مولانا غلام عباس جویو انتقال کرگئے
  • متنازعہ فوجداری بل بارے جلد قومی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، علامہ شبیر میثمی
  • نواب شاہ کے قریب ٹرین حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں

تازه خبریں

ایس آئی ایف سی کا قیام، ون ونڈوآپریشن مستحسن اقدام ہے قائد ملت جعفریہ پاکستان

ایس آئی ایف سی کا قیام، ون ونڈوآپریشن مستحسن اقدام ہے قائد ملت جعفریہ پاکستان

ایس آئی ایف سی کا قیام، ون ونڈوآپریشن مستحسن اقدام ہے

تجربہ گواہ ہے کہ اعلیٰ سطحی پالیسیاں نچلی سطح تک ثمرات نہیں پہنچاتیں تو دیر پا ثابت نہیں ہوتیں، قائد ملت جعفریہ
 ضروری ہے کہ فریب، دھوکہ دہی، بدیانتی، رشوت ستانی جیسے مسائل کے پہاڑ ختم کئے جائیں ، تبصرہ
راولپنڈی /اسلام آباد23جون 2023 ء ( جعفریہ پریس پاکستان)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں ایس آئی ایف سی کا قیام، ون ونڈوآپریشن مستحسن اقدام اور طریق کار ہے البتہ جو اقدامات اعلیٰ سطح پر کئے جارہے ہیں انکے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کیلئے مسائل کا تدارک بھی ضروری ہے ۔ معاشی و داخلی بہتری میں حائل فریب، دھوکہ دہی، بدیانتی، رشوت ستانی جسمیںگنجلک رکاوٹوں اور مسائل کے پہاڑوں کو ختم کرنا ہوگا جس سے عام آدمی سے آکسیجن تک چھین سکتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹشن کونسل (ایس آئی ایف سی )کے قیام کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاری کیلئے راہ ہموار اور ون ونڈو آپریشن جیسے اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں مستحسن قرار دیابشرطیکہ عملی شکل اختیار کریں ۔ علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ ایس آئی ایف سی کو ”ایک حکومت اور اجتماعی حکومت ”کے تصور کے فروغ کے سلوگن کیساتھ جاری کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ اس سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں حائل تمام رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائیگا اور مرکزی و صوبائی حکومتوں کیساتھ اداروں میں اشتراک عمل پیدا کیا جائیگا جو لائق تحسین ہے البتہ معاشرے میں سرائیت کرجانیوالے مسائل فریب، دھوکہ دہی، بدیانتی اور رشوت ستانی جیسی گنجلک رکاٹوں کیساتھ مسائل کے پہاڑ بن چکے ہیں ، جائز کام ہونا انتہائی مشکل بنادیاگیا اور بنیادی حق کے حصول کو اتنا مشکل بنادیاگیا کہ بغیر رشوت کے عام آدمی سانس تک نہیں لے سکتا ۔اب جو اعلان اور پالیسی اعلیٰ سطح پر مرتب کی گئی ہے اسے نچلی سطح تک منتقل کرنا اور مذکورہ بالا مسائل سے چھٹکارہ دلانا انتہائی لازمی ہے ۔انہوںنے زور دیتے ہوئے کہاکہ اس سے قبل بھی جو پالیسیاں مرتب کی گئیں ا نکی ناکامی کی بنیادی وجہ ہی نچلی سطح تک عوام کو ان کے ثمرات نہ پہنچنا تھے۔