تازه خبریں

انقلابِ اسلامی ایران رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے افکار کی روشنی میں فکری تجزیہ

انقلابِ اسلامی ایران: رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے افکار کی روشنی میں |شہباز حسنین

انقلابِ اسلامی ایران: رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے افکار کی روشنی میں شہباز حسنین

انقلابِ اسلامی ایران بیسویں صدی کے نادر تاریخی واقعات میں شمار ہوتا ہے، جس نے نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ انقلاب محض ایک حکومتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک اخلاقی، اعتقادی اور فکری بیداری بھی تھا، جس نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں نئی راہیں کھولیں۔ رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے مطابق، انقلاب ایک اسلامی اور الٰہی انقلاب ہے، جس کا بنیادی مقصد انسان کے اندر اصلاح کے ذریعے سماجی اور سیاسی نظام میں تبدیلی لانا تھا۔ وہ فرماتے ہیں: “انقلاب ایک اخلاقی، ثقافتی اور اعتقادی تبدیلی ہے، جس کے بعد سماجی، معاشی اور سیاسی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔” انقلاب کی بنیاد فقہ، فلسفہ اور مذہبی معارف کی ہزار سالہ میراث ہے اور عوام کی بھرپور حمایت اور قربانیوں کی بدولت یہ ایک خودمختار اور مستحکم تحریک کے طور پر ابھرا۔ اس انقلاب نے نہ صرف سرمایہ دارانہ مغرب بلکہ الحادی مشرق کے نظریات کو چیلنج کیا اور ثابت کیا کہ ایک معاشرہ جو دینی اور اخلاقی اقدار پر مبنی ہو، وہ اپنی تقدیر خود تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انقلاب کی ضرورت ایک فطری اور تاریخی سنتِ الٰہی تھی۔ تاریخ اور قرآن کے مطابق، جب کوئی معاشرہ ظلم، فساد اور بدعنوانی کا شکار ہوتا ہے، تو اہلِ ایمان کو قیام کرنا ضروری ہے تاکہ حق اور عدل کا نظام قائم رہے۔ ایران کی معاشرتی اور تاریخی زوال و استبداد اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ عوامی حقوق، عدل اور آزادی خطرے میں تھے۔ انقلاب نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ سب سے مؤثر اور متحرک نظریہ اسلام ہے، جو نہ صرف لوگوں کو منظم کر سکتا ہے بلکہ جدید صنعتی دور میں معاشرے کی رہنمائی اور استقامت کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ اس انقلاب نے دنیا کے مظلوم عوام کو یہ اعتماد دیا کہ ظلم کے خلاف قیام اور انسانی کرامت کی بحالی ممکن ہے۔ نعرہ نہ مشرق، نہ مغرب اس بات کا عکاس ہے کہ انقلاب کسی غیر ملکی طاقت یا نظریہ پر منحصر نہیں تھا بلکہ یہ اپنے فطری اور اسلامی اصولوں کے مطابق قائم ہوا۔جس میں مرکزیت اللہ پر ایمان کو حاصل ہے۔ انقلاب کے بنیادی ستون مکتبِ اسلام، قیادت اور عوام ہیں۔ امام خمینیؒ نے اسلامِ ناب محمدیؐ کو اسلامِ تحریف شدہ کے مقابلے میں پیش کیا عوام کی بھرپور شرکت انقلاب کی کامیابی کی روح ہے اور اسی وجہ سے رہبرِ معظم فرماتے ہیں:یہ نظام لوگوں کا ہے کیونکہ اسے لوگوں نے بنایا اور عوام ہی اس کے حقیقی نگہبان ہیں۔ انقلاب نے یہ ثابت کیا کہ قیادت اور عوام کے درمیان تعلق، ایمان اور قربانیوں پر مبنی ہو تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ عوام نے نہ صرف شہادت اور جدو جہد میں حصہ لیا بلکہ اسلامی اقدار، اخلاقی اصول اور عدل و انصاف کی ترویج میں بھی اپنی بھرپور طاقت اور وفاداری دکھائی۔ انقلاب کا یہ پہلو اسے دیگر عالمی انقلابوں سے ممتاز کرتا ہے کیونکہ یہاں کسی مخصوص طبقے کی بجائے پورے معاشرے نے ایک متحرک اور فعال کردار ادا کیا۔ انقلابِ اسلامی ایران نے داخلی و خارجی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ داخلی سطح پر اس نے حکومت کے نظام کو اسلامی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا، عدل، آزادی، علمی ترقی اور عوام کی شرکت کو فروغ دیا اور اسلامی شناخت کو بحال کیا۔ خارجی سطح پر، اس نے دنیا کے مظلوم عوام کو یہ پیغام دیا کہ ظلم، استکبار اور استبداد کے خلاف قیام ممکن ہے اور اسلامی نظریات کے مطابق ایک منظم اور کامیاب انقلاب کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ تاہم، انقلاب مختلف خطرات اور چیلنجز سے بھی دوچار رہا، جیسے اقتصادی پابندیاں، سیاسی دباؤاور داخلی سازشیں۔ رہبرِ معظم فرماتے ہیں: “انقلاب کی بقاء اس کے اصل اصولوں، ولایتِ فقیہ اور عوام کی حمایت پر منحصر ہے۔” اس انقلاب کی کامیابی اور دوام اسی وجہ سے ممکن ہوا کہ عوام، قیادت اور دین کے اصول ایک دوسرے کے ساتھ متحد اور متحرک رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب ایران صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل تحریک ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو کر امامِ زمانہؑ کے ظہور کے لیے راہ ہموار کرے گی۔آج تمام تر خطرات اور سازشوں کے باوجود انقلاب آگے بڑھ رہا ہے اور ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔