تمام معززصحافی حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے جنہوں نے آج کی پریس کانفرنس کیلئے اپنا قیمتی وقت دیا .
دمشق میں سیدہ حضرت زینب ؑ کے مزار مقدس کو نشانہ بنانے کیلئے کئے جانے والے بزدلانہ حملہ کو مذہبی مقامات مقدسہ کی توہین اور مذہبی عقیدہ کی آزادی پر حملہ سمجھا جاتا ہے اور شدید مذمت کی جاتی ہے .اور قومی ائیر لائن کے ملازمین کی نجکاری کے خلاف احتجاج پر حملہ کو حکومتی جبر و تشدد قرار دیا جاتا ہے ۔
محترم صحافی حضرات
گلگت بلتستان کے عوام کی حمایت اور جزوی مسائل پر آوازاٹھانے پر عوامی ایکشن کمیٹی ، اینٹی ٹیکس موومنٹ اور یوتھ موومنٹ جی بی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے جی بی کے موجودہ مخصوص معروضی حالات پر گفتگو کرنا چاہتے جو نہ جماعتی مسئلہ ہے نہ کسی زندگی کے مختلف شعبوں میں سے کسی ایک شعبہ کا مسئلہ ہے یہ خالصتا جی بی کے ۲۰ لاکھ عوام کا بنیادی انسانی حقوق کامسئلہ ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ جی بی میں موجود تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر شعبہ اپنے جزوی و فروعی اختلافات کو بھلا کرتاریخ کے اس نازک موڑ میں جی بی کے بنیادی اور حقیقی مسائل اور اس کا منطقی حل تلاش کر کے اپنا بھر پور ادا کریں گے ۔
قابل قدر صحافی حضرات
گلگت بلتستان کے مخلص ،باوفااور محب وطن عوام جیسے لوگ کسی ملک اور ریاست کو نہیں مل سکتے جو ۶۸ سال کے ایک طویل عرصہ سے آئین پاکستان میں شامل ہونے کے انتظار میں ہوں اگر بین الاقوامی عدالتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں جی بی کے عوام کا صبر و تحمل ، برداشت اور انتظار کی حالت میں لازوال اور جرات و بہادری سے بھری بے مثال قربانیوں کا جائزہ لیں تو عالمی اعزازات سے نوازنے جانے کے اہل قرار پائنگے ۔
مگر ستم ظریفی ہے کہ ۶۸ سال کے طویل انتظار کے بعدپاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے اعلان کے بعد ایک امید کی کرن پھوٹنے لگی اور سبز ہلالی پرچم کو فرط محبت سے چومنے والے ، اور اسی سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کیلئے لازوال قربانیاں دینے والے ،نشان حیدر پانے والے اور دیگر اعلی اعزازات سے نوازے جانے والے گھرانوں اور علاقوں میں جشن منانے کی تیاریاں کی جانے لگیں پورے جی بی کے عوام کو ۶۸ سال کے بعد اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کی امید پر تمام تر اختلافات کو پس پشت ڈال کرایک دوسرے سے بغلگیر ہونے لگے مگر ماضی کی طرح اب بھی جی بی کے غیور ، محب وطن اور دہشت گردی سے لے کر سرحدوں کی حفاظت کرنے ولاے مخلص عوام کی امیدیں دم توڑتی نظر آرہی ہیں ۔
اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان نے شروع سے ہی آئینی صوبہ کا مطالبہ کیاہے اور آج کی پیدا شدہ صورت حال میں یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ آئینی حیثیت کا تعین اب گلگت بلتستان کی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے اور آئینی صوبہ سے کم تر کسی بھی چیز کو قبول نہیں کرے گی جو گلگت بلتستان کی شناخت اور حیات سے بھی بڑھکر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے استحکام کی ضرورت ہے .محسوس ایسا ہوتا ہے کہ جی بی میں بلوچستان جیسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش اورمزید محرومیوں میں دھکیلنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور گلگت بلتستان کو بھی تقسیم کرنے کا سوچا جارہا ہے جو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا .اسلامی تحریک پاکستان ، گلگت بلتستان کے حقوق کے حصول میں صف اول کا کردار ادا کرے گی اور پورے جی بی کے گھر گھر تک اپنا پیغام پہنچائے گی ۔
ہم وفاقی حکومت ، آئینی کمیٹی اور اقتصادی راہداری کمیٹی پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اقتصادی راہداری کو تحفظ دینے کیلئے آئینی حیثیت کے تعین اور راہداری کے تمام منصوبوں میں واضح اور بھاری منصوبے نہیں رکھے گئے تو حالات کی تمام تر ذمہ داری وفاق پر عائد ہو گی ۔ہم جی بی حکومت سے بھی امید رکھتے ہیں کہ آل پارٹیز کانفرنس منعقدہ نومبر ۲۰۱۵ کے مشترکہ اعلامیہ کی روشنی میں گلگت بلتستان کو حقوق دلانے کی مکمل جدوجہد کرے گی اگر پارٹی ڈسپلن حقوق کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہو تو وقت کا تقاضا کہ جی بی کے عوامی تحریک کو مکمل سپورٹ کرے ۔