تازه خبریں

امام حسینؑ کے یومِ ولادت پر قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی کا پیغام

امام حسینؑ کا یومِ ولادت انسانیت کیلئے مسرت و شادمانی کا دن ہے، علامہ ساجد علی نقوی

امام حسینؑ کا یومِ ولادت انسانیت کیلئے مسرت و شادمانی کا دن ہے، سربراہ اسلامی تحریک، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی

یہ صرف ایک شخصیت کی ولادت نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک مکتب اور ایک قیام کی ولادت ہے، عالم انسانیت کیلئے ہادی، رہبر اور امام کی ولادت ہے، قائد ملت جعفریہ۔

امام عالی مقام کی ذاتِ گرامی جملہ اوصافِ حمیدہ کی حامل ہے، آپؑ کی سیرت کا ہر پہلو عالمِ انسانیت کی رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے، 3 شعبان کی مناسبت سے پیغام۔

راولپنڈی / اسلام آباد
22 جنوری 2026ء (جعفریہ پریس پاکستان )

سربراہ اسلامی تحریک، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے نواسۂ پیغمبرِ اکرم ﷺ، محسنِ انسانیت حضرت امام حسینؑ کی ولادتِ باسعادت (3 شعبان المعظم) کے موقع پر کہا کہ حسین ابن علیؑ کا یومِ ولادت انسانیت کیلئے مسرت و شادمانی کا دن ہے۔ یہ صرف ایک شخصیت کی ولادت نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک مکتب اور ایک قیام کی ولادت ہے، عالمِ انسانیت کیلئے ہادی، رہبر اور امام کی ولادت ہے۔

علامہ ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ امام عالی مقامؑ کی ذاتِ گرامی جملہ اوصافِ حمیدہ کی حامل ہے۔ آپؑ کی سیرت کا ہر پہلو عالمِ انسانیت کی رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ کیونکہ آپؑ نصِ قرآنی کے مطابق فرزندِ رسول ﷺ ہیں اور آپؑ کی حیاتِ مبارکہ رسولِ معظم ﷺ سے اکتسابِ فیض ہے، اور جو زندگی سیرتِ رسول ﷺ کا عین عکس اور مجسمہ ہو، اس کا ہر فعل اور اقدام احکامِ الٰہی کے تابع ہوتا ہے۔

حضرت امام حسینؑ کے ساتھ پیغمبرِ اکرم ﷺ کی محبت اور وابستگی احادیثِ مبارکہ سے بھرپور انداز میں عیاں ہوتی ہے۔ رسولِ خدا ﷺ نے امام حسینؑ کو اپنا اور خود کو امام حسینؑ کا قرار دے کر عالمِ انسانیت پر واضح کر دیا کہ ان دونوں ہستیوں کا باہمی تعلق گہرا اور راسخ ہے۔

لہٰذا نبوت و ولایت کے پاکیزہ گھرانے میں پرورش پانے والی اس پاکیزہ ہستی کی سیرت و کمالات کا مطالعہ اور ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہی ہمیں گناہ آلود معاشرے کو دینی اقدار اور جذبۂ حریت کے ذریعے اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کیلئے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

سربراہ اسلامی تحریک، قائد ملت جعفریہ پاکستان نے امتِ مسلمہ پر زور دیا کہ وہ حضرت امام حسینؑ کے الٰہی، آفاقی اور مجاہدانہ کردار کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے عالمِ اسلام کے مسائل حل کرے، ظالم و جابر قوتوں کی مخالفت کرے اور اپنے نظریات و اصولوں سے دستبردار نہ ہو۔