انقلاب اسلامی ایران اور اس معاشی ماڈل
بشارت حسین حسینی
عصر حاضر میں ممالک کی ترقی کو معیشت کے پیمانوں پر تولا جاتا ہے۔ کوئی بھی کامیاب نظام اپنے بہترین معاشی سسٹم سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ مغربی تجزیہ نگار ایران کی معیشت کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی خواہش کو تجزیہ کا نام دے دیتے ہیں جس سے معیشت کی درست تصویر سامنے نہیں آتی۔
سب سے پہلے تو یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ موجودہ عالمی معاشی نظام یورپ اور امریکہ کا تشکیل دیا ہوا ہے۔ اس میں ہر وہ دروازہ کھڑکی بند کی گئی ہے جس میں ان کا کوئی معاشی مخالف فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے اس بات کا باقاعدہ اہتمام کر رکھا ہے کہ ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق چل رہی ہے، جہاں انہیں لگتا ہے کہ یہاں کچھ ہمارے خلاف ہے تو فوراً وہ تمام میکنزم فعال کر دیتے ہیں جن سے مخالف ملک پر تمام معاشی دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
اعداد و شمار کو جذبات سے الگ کر کے دیکھا جائے تو ایرانی معیشت کی ایک مختلف تصویر ابھرتی ہے۔ 1979 کے بعد ایران تقریباً مسلسل پابندیوں میں رہا، جبکہ اس کے مقابلے میں دیگر ترقی یافتہ ممالک آزاد مالیاتی نظام، عالمی منڈیوں اور سرمایہ کاری تک مکمل رسائی رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود ایران نے جس سطح پر اپنی بنیادی معاشی ساخت کو برقرار رکھا، وہ خود ایک مزاحمتی ماڈل کی مثال ہے۔
مثال کے طور پر 2020 سے 2024 کے درمیان جب یورپی معیشتیں توانائی بحران کے باعث منفی یا صفر نمو کا شکار رہیں، ایران نے پابندیوں کے باوجود اوسطاً مثبت جی ڈی پی گروتھ برقرار رکھی۔ مغربی معاشی جریدے اعتراف کرتے ہیں کہ ایران نے تیل کی محدود فروخت، علاقائی تجارت اور داخلی پیداوار کے امتزاج سے وہ جھٹکے جذب کیے جو کئی ترقی یافتہ معیشتوں میں شدید سماجی بحران کا باعث بنے۔
یہ بہت بڑا اعتراف ہے کہ جن پر پوری عالمی منڈی کھلی تھی وہ معیشتیں ڈوب رہی تھیں مگر ایرانی معیشت اپنی مزاحمتی ماڈل کی وجہ سے آگے بڑھ رہی تھی۔
ایک اہم شعبہ توانائی میں ایران کا موازنہ اگر یورپ سے کیا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد جرمنی، اٹلی اور جاپان جیسے ممالک کو توانائی درآمدات پر شدید مہنگائی، صنعتی سست روی اور سبسڈی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے برعکس ایران، جو خود پابندیوں کا شکار تھا، نہ صرف اپنی توانائی ضروریات پوری کرتا رہا بلکہ 2024 میں روزانہ تقریباً ڈیڑھ ملین بیرل تیل برآمد کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے توانائی خود کفالت کے ذریعے وہ اسٹریٹیجک برتری حاصل کی جو ترقی یافتہ مگر توانائی پر انحصار رکھنے والی معیشتوں کو میسر نہ تھی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں “مزاحمتی معیشت” محض نعرہ نہیں بلکہ عملی پالیسی کے طور پر سامنے آتی ہے۔
تیل کے علاوہ برآمدات کے میدان میں بھی ایران کی کارکردگی کئی ترقی یافتہ ممالک کے لیے چونکا دینے والی ہے۔ 2023 میں ایران کی نان آئل ایکسپورٹس تقریباً 44 ارب ڈالر تک پہنچیں جبکہ یونان، پرتگال اور فن لینڈ جیسے مکمل آزاد یورپی ممالک کی برآمدی نمو اسی عرصے میں جمود کا شکار رہی۔
مغربی ماہرین لکھتے ہیں کہ ایران نے پابندیوں کے باعث مجبور ہو کر جس صنعتی تنوع کو اپنایا، وہی تنوع کئی ترقی یافتہ معیشتیں طویل المدت پالیسی ناکامی کے باعث کھو بیٹھیں۔ ایران کی اسٹیل، سیمنٹ اور پٹروکیمیکل مصنوعات نے یہ ثابت کیا کہ عالمی نظام سے کٹے رہنے کے باوجود صنعتی بنیاد مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، اگر ریاست اپنی سمت واضح رکھے۔
آپ پاکستانی مارکیٹ کو ہی دیکھ لیں، یہاں شاپر تک ایرانی استعمال ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب بہت واضح ہے کہ ایران نے صنعتی اور برآمدات کی پالیسی ایسی لچکدار رکھی ہے کہ پابندیوں کے باوجود پڑوسی اور دیگر ممالک ایرانی مصنوعات خرید سکتے ہیں۔ یہی آسانی بنیاد بنی ہے کہ پاکستان، ایران، ترکی اور دیگر کئی ممالک کی عام منڈیاں ایران کے تجارتی سامان سے بھری نظر آتی ہیں۔
ویسے ہمارے لیے ایک اہم وجہ ایرانی اشیاء کا معیاری اور سستا ہونا ہے۔ اب تک یہ اشیاء غیر روایتی راستوں کے ذریعے پاکستان پہنچتی ہیں، انہیں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں منظم کرنے سے ہم سستی ایرانی اشیاء کا فائدہ بارڈر ایریاز سے ہٹ کر دیگر علاقوں کو بھی پہنچا سکتے ہیں۔
مزاحمتی معیشت کا سب سے نمایاں پہلو اس کی داخلی منڈی ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک مہنگائی اور سپلائی چین بریک ڈاؤن کے باعث عوامی دباؤ میں آئے، وہاں ایران نے سبسڈی، مقامی پیداوار اور درآمدی متبادل کے ذریعے معاشی جھٹکوں کو اندر جذب کیا۔
IMF اور یورپی تھنک ٹینکس اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایران کی معیشت نے جس سطح کی شاک ریزیلینس دکھائی، وہ کئی آزاد مگر نازک معیشتوں میں نظر نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایران کو ایک فعال مزاحمتی ماڈل کے طور پر نظرانداز کرنا بھی فکری بددیانتی ہوگی۔
آج جب دنیا کے تمام ممالک کی معاشی رگوں میں ڈالر بہہ رہا ہے اور ایران کو ڈالر کے نظام سے ہی باہر کرنے کی دانستہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ ایران کا پورا معاشی نظام ہی گر جائے، تو اس کے اثرات یقیناً ایرانی معیشت پر آ رہے ہیں، بالخصوص جب پابندیوں کے ساتھ ساتھ جنگ کے اعلانات بھی ہو رہے ہیں۔
مگر ایران کا معاشی ماڈل ایسے ہی وقت کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ آج ایران کی معیشت تمام تر چیلنجز کے باوجود آگے بڑھ رہی ہے، ترقی کر رہی ہے۔ یہ ایک عملی معجزہ ہے جو وقوع پذیر ہو رہا ہے۔