قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں غزہ کے نام پر بورڈ آف پیس دراصل اقوام متحدہ کے عالمی ادارے سے گریز Might is Right کی عملی شکل ، امن کے نام پراپنی مرضی تسلط کرنے کا منصوبہ ہے
ان خیالات کا اظہار سربراہ اسلامی تحریک، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے غزہ کے نام پر سامراجی صدر کی جانب سے قائم کیے گئے نام نہاد بورڈ آف پیس پر اپنے ردِعمل اور مختلف رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جس قرارداد 2803 کا حوالہ دے کر اس بورڈ کے قیام کو جواز فراہم کیا جا رہا ہے، خود اس پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔ چین اور روس کا ووٹنگ میں حصہ نہ لینا، فرانس کی مخالفت اور بعض دیگر یورپی و عالمی ممالک کا فاصلہ اختیار کرنا اس فورم کی متنازع حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سامراجی صدر کا تاحیات اس فورم کا چیئرمین بننا، تمام اختیارات اور ویٹو پاور اپنے پاس رکھنا دراصل عالمی اداروں کو نظر انداز کرنے اور سامراجی سوچ کے نفاذ کا اعلان ہے۔ یہ طرزِ عمل واضح طور پر “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کی عملی مثال ہے۔
قائد ملت جعفریہ نے مزید کہا کہ اب یہ بات کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کو پہلے فنڈز روکنے کی دھمکیاں دی گئیں اور اب ان کے متوازی نظام قائم کرنے کی کوششیں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس سامراج کی تاریخ انسانیت کے خون سے بھری ہوئی ہو، جس کے ہاتھ عراق، افغانستان، شام، فلسطین اور لبنان کے عوام کے خون سے رنگے ہوں، اس سے حقیقی امن کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔
مسئلہ فلسطین پر بات کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ دوٹوک اور واضح رہی ہے اور مسئلہ فلسطین اساسِ پاکستان ہے۔ اس نام نہاد امن بورڈ میں شمولیت نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ یہ محض سفارتی اور معاشی مجبوری کے سوا کچھ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مسلط کیے گئے امن معاہدوں سے فلسطینی عوام کو فائدے کی بجائے نقصان اٹھانا پڑا اور اب سامراجی قوتیں مستقل طور پر خطے پر زبردستی مسلط ہونے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔