رمضان المبارک 1447ھ کے آغاز پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام
راولپنڈی، فروری 2026ء: قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ماہِ مبارک رمضان 1447ھ کے آغاز پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ قمری سال کا نواں مہینہ، جس میں طلوعِ صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک رضائے الٰہی کی نیت سے مخصوص امور سے اجتناب کیا جاتا ہے اور روزہ جیسی عظیم عبادت ادا کی جاتی ہے، صرف دینِ اسلام ہی نہیں بلکہ دیگر ادیان میں بھی کسی نہ کسی صورت موجود ہے۔
انہوں نے قرآنِ مجید کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روزے کی فرضیت اور اس کے شرعی احکامات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
“اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو” (البقرہ: 183)۔
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“گنتی کے چند دن ہیں، پس تم میں سے جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے، اور جو طاقت رکھتے ہوں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں… اور اگر تم جان لو تو روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے” (البقرہ: 184)۔
رمضان اور نزولِ قرآن
قائد ملت جعفریہ نے مزید کہا کہ قرآنِ کریم میں ماہِ رمضان کی فضیلت اس طرح بیان ہوئی ہے:
“رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے” (البقرہ: 185)۔
انہوں نے حدیثِ نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“انما سمی رمضان لان رمضان یرمض الذنوب” یعنی رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔
اسی طرح دخترِ رسول حضرت حضرت فاطمہ زہرا کا فرمان نقل کرتے ہوئے کہا:
“فرض اللہ الصیام تثبیتاً للاخلاص” یعنی اللہ تعالیٰ نے روزے کو اس لیے واجب کیا تاکہ بندوں کے اخلاص کو مضبوط کرے۔
موجودہ حالات اور اصلاحِ امت
علامہ ساجد نقوی کے مطابق موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو جن سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا حل ماہِ رمضان میں مسلسل عبادت، تزکیۂ نفس اور عملی اصلاح کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی، ظلم اور ناانصافی کے خاتمے کے لیے انفرادی و اجتماعی سطح پر تقویٰ اور خود احتسابی کو فروغ دینا ہوگا۔
حکومت اور عوام کی ذمہ داریاں
انہوں نے زور دیا کہ رمضان المبارک کے دوران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی سستی اور فوری فراہمی کو یقینی بنائے، بدامنی اور دہشت گردی پر قابو پائے، احترامِ ماہِ صیام کو برقرار رکھے اور سحر و افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے۔
دوسری جانب امتِ مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ اس بابرکت مہینے میں عبادت، ریاضت اور قرآنِ کریم کے مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، اس کے معانی و مفاہیم پر غور کرے اور اس کی تعلیمات کو انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کرے تاکہ فلاحِ انسانیت اور اخروی کامیابی حاصل ہو سکے۔