تازه خبریں

گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام آئینی صوبے سے کم کسی پیکج کو قبول نہیں کرینگے۔ اسلامی تحریک پاکستان

گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام آئینی صوبے سے کم کسی پیکج کو قبول نہیں کرینگے۔
قوم طفل تسلیوں سے تنگ آچکے ہیں۔ مستحکم پاکستان کے لیے سنجیدہ قدم اٹھا یا جائے ۔
(ریحانہ عبادی ممبر گلگت بلتستان اسمبلی اسلامی تحریک پاکستان)
سکردو (پ۔ر) گلگت بلتستان اسمبلی میں اسلامی تحریک پاکستان کی خاتون ممبر اسمبلی ریحانہ عبادی نے گلگت بلتستان کے موجودہ صورت حال پر اپنے بیان میں کہا کہ وقت آن پہنچا ہے کہ حکومت وریاست گلگت بلتستان سے متعلق سنجیدہ موقف اختیار کرئے ۔ بے منطق پروگرامز اور طفل تسلیوں کا زمانہ گز ر چکا۔ اور حالات اس رخ پر جارہے ہیں جس کا ادراک قومی مفاد میں نہایت ضروری ہے۔ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے بغیر یہاں ترقی وتعمیر اور اختیارات کے منتقلی کے تمام دعوئے اور نعرے بے سوداور بے فائدہ ہونگے۔ کیونکہ یہاں کے تمام مسائل میں اہم ترین اور بنیادی مسئلہ آئینی مسئلہ ہے اور یہاں کے لاکھوں عوام کا درینہ اور باوزن مطالبہ بھی اس خطے کی آئینی تعیین ہے ۔
اس سلسلے میں اسلامی تحریک پاکستان روز اول سے اسی اصولی موقف پر قائم ہیں اور ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ قومی پلیٹ فارم کا اس خطے میں سیاسی منشور رہا ہے۔ ہمیں اپنے اکابرین کے فہم و فراست پر یقین کامل ہیں ۔ انہوں نے یہاں کے قومی اور اہم علاقائی معاملات میں ہمیشہ درست اور بامقصد موقف اپناے اور اسے آگے بڑھاے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ارباب اقتدار پر واضح ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اکابرین کے طے کردہ منشور اور عوامی آواز یعنی آئینی حق کے حصول میں سر توڑ کوششیں کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ کشمیر کے مسئلہ تک یہاں کے معاملات کا حل مشکل ہے ہم اس منطق کو ہی مسترد کرتے ہیں ۔کہ گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کے تعیین سے مسئلہ کشمیر پرکوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس خطے کی اپنی تاریخ ، جغرافیہ ، ثقافت یعنی ہر چیز جدا ہے اور اسکی حیثیت بھی ہر لحاظ سے جداگانہ اور ممتاز ہے ۔ اگر مسئلہ کشمیر حل کی جانب نہیں بڑھ رہا ہے تو خارجہ پالیسی کی کمزوریاں ،سفارت کاری کی ناکامیاں وغیرہ ہیں۔ ارباب اقتدار پر واضح ہونا چاہیے کہ تاریخ کے اس اہم اور نازک موڑ پرجب بین الاقوامی اہمیت کی حامل سی پیک منصوبہ اس خطے سے گزر رہا ہے کوئی بھی ناعاقبت اندیش فیصلہ ملک کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ لہذا سنجیدہ قدم اٹھا یا جائے ۔