• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

اقوام متحدہ آج تک اپنا ہاﺅس ان آرڈر نہ کرسکا، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

اقوام متحدہ آج تک اپنا ہاﺅس ان آرڈر نہ کرسکا، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

رواداری انسانی تقاضا اور فطرت کی پکار ہے، 7دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی دنیا میں امن نہیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
اقوام متحدہ آج تک اپنا ہاﺅس ان آرڈر نہ کرسکا، ایام منانے کے علاوہ بین الاقوامی ادارے کو کردار بھی ادا کرنا ہوگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان
امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں اولین تقاضا رواداری ہے، پاکستان میں 70سالوں سے طرز حکمرانی بیانیہ کے برعکس رہا،عالمی یوم پر پیغام
راولپنڈی /اسلام آباد 15 نومبر 2022ء(  جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ رواداری انسانی تقاضا، فطرت کی پکار ہے، افسوس 7 دہائیاں گزرنے کے باوجود اقوام متحدہ اپنا ہاﺅس ان آرڈر نہ کرسکا،فلسطین و کشمیر کےساتھ دنیا کے کئی خطے عدم برداشت اور مظالم کی تصاویر ہیں ، معاشروں میں رواداری قائم رہتی تو آج دنیامیں کم از کم کسی حد تک سکون و اطمینان ضرورہوتا ، پاکستان میں مختلف بیانیے اپنائے گئے البتہ طرز حکمرانی اس کے برعکس رہا، امربالمعروف و نہی عن المنکر میں بھی اولین تقاضا رواداری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے بین الاقوامی یوم رواداری پر اپنے پیغام میںکیا ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقو ی نے کہاکہ رواداری انسانی تقاضا اور فطرت کی پکار ہے ، تمام مذاہب نے رواداری پر زور دیا البتہ اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے جبکہ قرآن و سنت کی طرف سے بڑی تاکید ہے ۔ سماج میں روداری ہی وہ بنیادی عنصر ہے جس کے سبب معاشرے اعتدال پر قائم رہتے ہیں اور زندگی پرسکون ہوتی ہے ۔ 7دہائیاں قبل اقوام متحدہ کے قیام کا بنیادی مقصد بھی انسانی حقوق کی فراوانی، بین الاقوامی جارحیت و اجارہ داری کا خاتمہ اور تہذیبوں کے ٹکراﺅ کو کم سے کم کرکے رواداری کو فروغ دینا تھا مگر افسوس آج گراﺅنڈ پر یہ فضا کہیں نظر نہیں آتی، چناچہ ملکو ں کی جو صورتحال ہے ، خصوصاً یمن، فلسطین ،کشمیر شام اورافریقہ سمیت دیگر خطوں میں وہ تشویس ناک ہے۔ اس کےساتھ اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جارہاہے پڑوسی ملک بھارت میںالبتہ یہ معاملہ یہیں نہیں رکتا خود ملکوں کے اندر بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی ہیں تو صرف رواداری کا یوم منانے سے کیا مسائل حل ہونگے؟یا کیا رواداری قائم ہوگی؟اس حوالے سے اقوام متحدہ پہلے اپنا ہاﺅس ان آرڈر کرے، یہ بین الاقوامی سطح کا سب سے بڑا فورم ہے جسے کسی خاص خطے یا ملک کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے بلکہ انسانی حقوق ، مساوات اور رواداری کےلئے رہنمائی کا کردار ادا کرنا چاہیئے جس میں آج تک یہ بدقسمتی سے کامیاب نہیں ہوسکا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ افسوس کہ پاکستان میں آزادی کے بعد سے آج تک اسلامی فلاحی ریاست، اسلامی نظام، روشن خیالی اور ریاست مدینہ کے نعرے لگائے جاتے رہے، بیانیے بنائے جاتے رہے مگر عملاً اس کے برعکس طرز حکمرانی ایسا رہا کہ شائد لاقانونیت، غیر جمہوری و غیر اسلامی افکا ر بھی پناہ مانگیں ۔معاشرے میں بنیادی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے رواداری کو اپنانا ضروری ہے امربالمعروف و نہی عن المنکرمیں بھی اولین تقاضا رواداری ہے ، معاشرے میں گھٹن کے ماحول کے خاتمے کےلئے بھی بنیادی اصول رواداری و باہمی احترام ہے جس پر چل کر معاشرے میں اعتدال کےساتھ ساتھ ترقی و استحکام بھی پروان چڑھتا ہے ۔