جعفریہ پریس – تکفیری گروہ کے سرغنہ احمد لدھیانوی کو الیکشن ٹرائبیونل کی طرف سے انتخابات میں کامیاب قرار دئے جانے پر شیخ وقاص اکرم نے بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کی انتخابی تاریخ کا انوکھا فیصلہ ہے۔ شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ جوفیصلہ الیکشن ٹرائبیونل نے سنایا ہے ہمارے ہوش میں اس قسم کا فیصلہ آج تک نہ ٹرائبیونل اورنہ ہائی کورٹ اورنہ ہی سپریم کورٹ نے سنایا ہے-ایک کالعدم جماعت کے پریشرمیں آکرغلط فیصلہ دیا ہے، جس کی کوئی قانونی حیثیت ہے اورنہ ہی کوئی قانونی جواز بنتا ہے ،پورا ملک اس پرحیران ہے میری بڑے بڑے وکلاء سے بات ہوئی ہے کسی کو سمجھ نہیں آرہی کہ یہ ہوا کیا ہے-شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ میرے والد کے خلاف درج ایف آئی آرسے تووہ خود مدعی دستبردار ہوگیا تھا لیکن لدھیانوی کے خلاف بد معاشی  ،غنڈہ گردی اور اشتعال انگیزتقاریرسمیت دہشت گردی کی 22 ایف آئی آردرج ہیں ، اگرہم نے اپنے اوپردرج ایک ایف آئی آر ڈسکلوز نہیں کی تویہ 22 درج ایف آئی آرکہاں ہیں ،مولانا تو 4 شیڈول میں ہونے کی وجہ سے الیکشن میں حصہ لینے کے بھی اہل نہیں-انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اس گیم کا حصہ ہے جو جج سے بڑھ کر کسی اور جگھ سے کھیلا جا رہا ہے-

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here