• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

اگر ملک کا حل مذاکرات ہیں تو اس کا دائرہ کار بھی بتایا جائے کہ یہ مذاکرات آئین کے دائرہ کار میں رہ کر کریں گے یا ماورائے آئین؟ قائد ملت جعفریہ پاکستان

جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی  نے کہا  ہے کہ 68 دہشتگردوں کی لسٹ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی میز پر پڑی ہے لیکن اُن کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی، اُن کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا رہا، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ سابقہ حکومت نے موت کی سزا کو معطل کیا اور اس حکومت نے دو چار دن سزا کی بات کرکے پھر وہی رویہ اختیار کر لیا ہے۔ جب تک اس ملک میں آئین عملاً بحال نہیں ہوتا، حقیقی امن قائم نہی ہوسکتا۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ملتان میں ملک ناصر عباس کے بھائی سے تعزیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی  نے مزید کہا  کہ ملک میں لاء اینڈ آرڈر نام کی کوئی چیز نہیں ہے، پچھلی حکومت نے پچھلے سال کوئٹہ کے واقعے میں دو اداروں کو سپیشل ٹاسک دیا تھا، جس کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں ہے۔ اس بار بھی سانحہ مستونگ کے بعد حکومت کی جانب سے بلند و بانگ دعوے کیے گئے لیکن عملاً اس پر کیا کام ہوا، ہمارے علم میں نہیں ہے کہ اس پر کوئی اقدامات بھی ہو رہے ہیں یا نہیں۔ جب تک ملک میں قانون اور آئین مکمل طور پر بحال نہیں ہوگا، اُس وقت تک ملک کی صورتحال سنبھالی نہیں جا سکتی۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا  کہ  وزیراعظم نے کل اپنے خطاب میں خود تسلیم کیا کہ اس ملک کے اندر قاتل دندناتے پھر رہے ہیں اور سات مہینوں سے لاشیں گر رہی ہیں اور عوام کا قتل عام ہو رہا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتا سکے کہ اس پر کیا اقدامات ہوئے؟ آئین عملاً کیوں معطل رہا؟ میں سمجھتا ہوں کہ ریاست نے ابھی تک حکومتوں کو پاور منتقل نہیں کی ہے، میں مطالبہ کرتا ہوں ریاست سے کہ وہ حکومتوں کو پاور منتقل کرے۔ تاکہ وہ آئین کی طاقت اور قوت سے مسائل کو روکیں۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے طالبان سے مذاکرات کرنے کا نہیں کہا بلکہ اپنی تقریر میں کہا ہے کہ جو سات ماہ سے ملک میں لاشیں گرا رہے ہیں، جو شدت پسند ہیں اور جو عوام کا قتل عام کر رہے ہیں، جو فوج کو مار رہے ہیں، جو پولیو مہم کے لوگوں کو مار رہے ہیں، اُن لوگوں سے مذاکرات کئے جا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس کا حل مذاکرات ہیں تو اس کا دائرہ کار بھی بتایا جائے کہ یہ مذاکرات آئین کے دائرہ کار میں رہ کر کریں گے یا ماورائے آئین؟ جن لوگوں سے وزیراعظم نے مذاکرات کی بات کی ہے، میں اُن لوگوں سے ہونے والے مذاکرات کو مسترد نہیں کرتا، لیکن ان مذاکرات کے دائرہ کار کو بھی واضح کیا جائے کہ وہ آئین کے مطابق ہوں گے یا آئین سے باہر؟ مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا بھی کوئی دائرہ کار واضح نہیں ہے کہ وہ کتنی موثر ہے؟ اور پھر کیا گارنٹی ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے؟ کون ضمانت دے گا کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے؟حکومت بے بسی کی صورت میں مذاکرات کر رہی ہے۔
حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کراچی میں سی آئی ڈی انچارج کی جانب سے ہمسایہ ملک کے خلاف کی جانے والی پریس کانفرنس کے حوالے سے کہا کہ ایک رینکر پولیس والے کے زبانی برادر اسلامی ملکوں کو ملوث بتانا یہ انتہائی گھٹیا حرکت ہے جو پاکستان کے مفاد کے خلاف اور خارجہ پالیسی کے اصولوں کے منافی ہے ۔اس سلسلہ میں یہاں پر وزیر خارجہ کو سامنے آنا چاہیے تھا نہ کہ ایک تھرڈ کلاس آفیسر کو۔