خداوند عالم کا سورۂ حجرات میں ارشاد ہے:(( وَ إِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُما فَإِنْ بَغَتْ إِحْداهُما عَلَى الْأُخْرى فَقاتِلُوا الَّتي تَبْغي حَتَّى تَفيءَ إِلى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُما بِالْعَدْلِ وَ أَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطين))اور اگرمومنین کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو،پھر اگر ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے،پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو،یقینا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اس آیہ کریمہ میں ان لوگوں سے خطاب ہے جو اس لڑائی میں فریق نہیں۔ان پر فرض ہے کہ وہ اس لڑائی میں تماش بین نہ بنیں، بلکہ مصالحت اور جنگ کے خاتمہ کی کوشش کریں۔ اگر وہ اس کوشش میں ناکام ہو گئے تو ان میں سے زیادتی کرنے والے کے خلاف لڑیں اور جوفریق حق پر ہو اس کا ساتھ دیں۔باغی کے خلاف لڑائی کا چونکہ اللہ تعالی نے حکم دیا ہے،لہذا یہ بھی جہاد فی سبیل اللہ کا مصداق ہے۔اس آیت میں حکمِ الہی مصالحت اورثالثی کرانے پر دلالت کر رہا ہے اس کے بعد جوفریق حق پر ہو اس کا ساتھ دینے کاحکم ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یمن اور سعودیہ کےموجودہ بحران کے بارے میں سعودی نواز گروہوں اور نوازشریف حکومت نے مصالحت کرانے کی کتنی کوشش کی ہے؟ اور فریقین کے مابین نزاع کے بارے میں کس حد تک تحقیقات کی گئی ہیں کہ آیاسعودیہ حق پر ہے؟ مصالحت کرانے میں ناکامی کی صورت میں اور یہ جانچنے کے بعد کہ کون سا فریق حق پر ہے کسی کی حمایت کرنے کا مرحلہ آئے گا؛جو فریق حق پرہواس کی حمایت میں فوج بھیجنی ہوگی ۔لیکن اختیار کی جانے والی روش اور پالیسی سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس مسئلہ کی حقیقت کوسمجھنے کی کوشش نہیں کی یا پھر بعض مصلحتوں کے تحت اسے غلط طریقہ سے پیش کیا جا رہا ہے۔جیسا کہ تاریخ میں اکثر اس طرح کےمسائل کی یہی کیفیت رہی ہے۔یہاں پرمسلمانوں کو انصاف کا دامن تھامنا ہوگا نہ کہ جانبداری کا؛ سورۂ مائدہ کی آیت نمبر۸/ ملاظہ ہو : ((يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامينَ لِلَّهِ شُهَداءَ بِالْقِسْطِ وَ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوى وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبيرٌ بِما تَعْمَلُون)) اے ایمان والو ! اللہ کے لئے بھرپور قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہاری بے انصافی کا سبب نہ بنے،(ہرحال میں)عدل کرو ! یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے اور اللہ سے ڈرو،بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔
مذکورہ آیت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام عدل وانصاف کو بنیادی اور انسانی حقوق میں سے قرار دیتا ہے۔اس میں مذہب، نسل اور رنگ وزبان وغیرہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم ملا ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی عدل وانصاف سے پیش آیا کرو۔کیونکہ جہاں وہ دشمن ہے وہاں انسان بھی ہے،بلکہ پہلے انسان اور بعد میں دشمن ہے۔چنانچہ حضرت علی(علیہ السلام) سے روایت ہے:اما اخ لک فی الدین و اما نظیرک فی الخلق(نہج البلاغہ)یا تو وہ تمہارا برادر ِدینی ہے یا تجھ جیسی مخلوق ۔
اگر چند لمحات کے لئے ہرقسم کے تعصبات اور جذبات سے بالاتر ہوکر اس مسئلہ کی کنہ حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی جائے اور اس نزاع کے حل کے لئے تھوڑے سے غوروفکر اور امعانِ نظر سے کام لیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ فریقین میں سے کون جارح ہے اور کون باغی؟یہ الگ بات ہے کہ جس نےآنکھوں پر پٹی باندھ لی ہو وہ توپھرادھر ہی جائے گاجہاں سےدرہم ودینار کی جھنکار سنائی پڑے گی۔
کسی کوباغی قرار دینایہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ باطل کا بہت ہی پرانا انداز ہے۔ہم اپنے قارئین کو کہیں اورنہیں لے جاتے فقط واقعہ کربلا پرہی نظر ڈال لیں۔بنی امیہ کے یزید نامی شخص نے نشۂ دولت واقتدار سے سرشار ہوکرجب امام عالی وقار( حسین بن علیؑ) سے بیعت لینے پر اصرار کیا تو پیغمبراعظمﷺکے فرزند (حسین بن علیؑ)نےنالائق نوجوان کی بیعت کرنے سے انکارکردیا۔ جس کے انکار نے اس دور کےباطل( بنی امیہ) کی نیندیں حرام کر دیں۔ باطل قوت ، فرزندِ رسول ؐسے ٹکرانے کےلئے سرجوڑ کر بیٹھ گئی کہ ان کا کیسے مقابلہ کیا جائے۔شیطان سے الہام لیتے ہوئے جوانانِ جنت کے سردار (سنن الترمذی،ص۹۸۸، حدیث ۳۷۷۷ ؛ صحیح ابن حبان،ص۱۸۵۹؛ سیوطی، تاریخ الخلفاء،ص۱۸۴؛ تاریخ مدینہ دمشق،ابن عساکر ،ج۱۴ ، ص ۱۳۰۔۱۳۱؛ الصواعق المحرقہ، ص۱۹۱؛الاصابہ فی تمیز الصحابہ،عسقلانی،ج۲،ص۶۳؛ اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ،ج۱ص۵۶۶ ؛ کنزالعمال،ج۱۲،ص۱۱۳،۱۱۹،۱۲۰؛ الاستیعاب،ج۱،ص۳۹۱) ،وقت کے امام(نزہۃ المجالس،ج۲،ص۱۶۵ ؛ ینابیع المودۃ،ص۱۹۸؛ منہاج السنہ،ج۴،ص۲۰۹ ) ،آیہ تطہیر ،آیہ اولی الامراورآیہ مودّت کے مصداق ، فخرخلیلؑ اور مسند رسول ؐکے حقیقی وارث وجانشین کویزیدی حکومت کا باغی قرار دے دیا گیا۔روز ِعاشور عین موقعۂ جنگ پر لشکر عمر بن سعد میں عمرو بن الحجاج نے کھڑے ہوکر آواز دی:”اے اہل کوفہ ،امیر کی اطاعت اور اپنی متفقہ رائے پر سختی سے قائم رہو اور کوئی شک نہ کرو۔ان لوگوں کے قتل میں جو مذہب سے نکل گئے ہیں اور امام (یزید)کی مخالفت کر رہے ہیں۔امام حسینؑ نے یہ آواز سنی تو فرمایا:”اے عمرو بن الحجاج ! تومیری جنگ کے لئے لوگوں کو آمادہ کررہا ہے؟کیا ہم مذہب سے نکل گئے ۔اور تم مذہب پر قائم ہو؟خدا کی قسم،جب یہ چند روزہ زندگی ختم ہوجائے گی اور موت کا مزہ چکھو گے اس وقت معلوم ہوگا کہ کون مذہب سے نکلا تھا اور کون آتش جہنم میں سزا پانے کا مستحق ہے”۔(تاریخ الطبری،ج۳،ص۴۷۰؛ الکامل فی التاریخ،ج۴،ص۶۷)
نمرودِ وقت ظاہری اورمادی سازوسامان کی کثرت اور غیر معمولی طاقت وقوت کے بل بوتے پر اپنے خواب کی تعبیر دیکھنے کاانتظار کرنے لگا۔اس وقت اسداللہ کے لختِ جگر نے اپنے عمل سے دنیا کو دکھا دیا کہ حسینؑ کی یہ گردن حفاظتِ حق کے لئے کٹ تو سکتی ہے مگر باطل کے سامنے جھک نہیں سکتی۔
یمن کی انقلابی تحریک”انصار اللہ” کو بھی اسی طرح کی مشکل کا سامنا ہے۔انصاراللہ نےاپنے حقوق کے دفاع کے لئے تحریک چلا رکھی ہے اور وہ ان قوتوں کے چنگل سے یمن کوآزاد کرانا چاہتی ہے جوسالہا سال سے ان کے ملک پرقابض ہیں اور وہاں کی عوام کے حقوق کوپائمال کررہے ہیں۔ لہذا انہی قوتوں نے انصاراللہ کا مقابلہ کرنےکےلئے “باغی” کی اصطلاح استعمال کی اور تحفظِ حرمین شریفین کا نعرہ بلند کر دیا گیا ہے۔انصاراللہ نے اپنے ملک کےصدر کوہٹایا ہے نہ کہ سعودی عرب کے صدرکو، سعودی عرب نے یمن پرفضائی حملہ کرکے سینکڑوں بےگناہ افراد کوموت کی نیندسلایا ہے۔لیکن بے انصافی کی حد ہوگئی ہے کہ موردِ الزام یمن کوٹھہرایا جا رہا ہے۔جب ایک حکمران عوام کا خون چوس رہا ہو اسے ہٹانا ایک فطری عمل ہے یا جب کوئی ایک حکمران ملکی مفاد میں فعالیت نہ کر رہا ہو تواس کےخلاف اقدام کیا جاسکتا ہے۔نواز شریف صاحب کو بھی تو جنرل پرویزمشرف نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے فارغ کر کے سعودیہ جلا وطن کر دیاتھا؛بے نظیر بھٹو جلا وطن رہی ہیں؛آصف علی زرداری،یوسف رضا گیلانی اورمخدوم جاوید ہاشمی جیل میں رہے ہیں۔جب بھی کسی ملک میں اس طرح کے مسائل پیدا ہوں توکسی ملک کو حق نہیں پہنچتا وہ اس ملک پر حملہ کرے۔
حرمین شریفین کی حفاظت کاراگ الاپ کر کیوں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شیعہ حرمین شریفین کو نقصان پہنچائے؟شیعہ تواپنے پیارے نبیﷺ کےنواسے کے ساتھ وفا کرنے والے حیوان کی ذوالجناح کے عنوان سے تعظیم کرتا ہے جس طرح ہر مسلمان قربانی کے جانور کی شعائراللہ کے عنوان سے تعظیم کرتا ہے۔(وَالْبُدْن َجَعَلْنٰہَالَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِاللہ؛ مَن یُعَظِّم ْشَعَآئِرَاللہِ فَاِنَّہَا مِن تَقْوَی الْقُلُوب،حج ،آیت۳۶و۳۲) دنیا کے مسلمانوں کے لئےاس بات کا سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ حرمین شریفین اور آلِ سعود میں فرق ہے۔آل سعود کوبچانے کے لئے حرمین شریفین کا سہارا لیا جارہا ہے؛انصاراللہ کی جنگ آل سعود سے ہے۔ دوستدارانِ اہل بیتؑ کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ خانۂ خدا کی حرمت اور تقدس جتنا ان کوعزیز ہے شاید کسی کونہ ہو۔امام حسینؑ کو مکہ میں شہید کرنے کاجب منصوبہ بنایا گیا توآپؑ نے مکہ کوچھوڑنےکافیصلہ کیا۔ چنانچہ آپؑ نے عبداللہ بن زبیرکےمکہ چھوڑنے کی وجہ دریافت کرنے پرفرمایاتھا:بخدا اگر میں ایک بالشت بھی باہرقتل کیاجاؤں،تویہ امرمجھے اس سےزیادہ پسندہے کہ مکہ کےاندر قتل ہوں۔(تاریخ الطبری،ج۳،ص۴۴۳)امام حسینؑ نہیں چاہتے تھے کہ ایک ایسی جگہ جسے اللہ تعالیٰ نے امن کامقام “مَن دَخَلہ کانَ آمِناً”( آل عمران،آیت۹۷) قرار دیا ہے وہ نا امن ہو۔
بعد میں یزید کے خلاف عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ نے قیام کیا توواقعہ حرہ کی کالک ابھی تک بنی امیہ اور ان کےچیلوں کے منہ پرباقی ہےاورجب عبداللہ بن ابن زبیر نےقیام کیا اور یزیدی سپاہ مکہ پر حملہ آور ہوئی توخانہ کعبہ کو جلادیا۔(تاریخ یعقوبی،ج۲،ص۱۶۶؛ مروج الذہب،ج۳،ص۶۱)کتنا فرق ہےامام حسینؑ اور بنی امیہ میں؟ امام حسینؑ خانۂ خدا کےلئے سپر تھے اور بنی امیہ نے خانۂ خدا کی حرمت کا پاس ولحاظ نہ رکھا ؛ یزید کے دور میں بھی اور عبدالمالک بن مروان کے دورمیں بھی بنی امیہ نے کعبہ کی حرمت کاخیال نہیں کیا۔ (تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۵؛ مروج الذہب،ج۳،ص۹۶) اب آلِ سعود خانۂخدا کو اپنے دفاع کےلئے سپر قرار دے رہے ہیں نہ یہ کہ خانۂ خدا کے لئے وہ خود سپر ہوں۔یمن کی انصار اللہ حسین بن علیؑ کی پیروکار ہے اورآلِ سعود بنی امیہ کے پیروکار ہیں۔مسلمانوں کےلئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کسی کے دھوکے میں آکر بے گناہوں کے خون بہانے میں شریک نہ ہوجائیں اور قرآن کریم کاحکم ہے(سورہ مائدہ،آیت۳۲) کہ جو کسی ایک انسان کو قتل کرے گویا کہ اس نے تمام انسانیت کوقتل کیا ہے۔ ساحر لدھیانوی کے بقول:
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا