تازه خبریں

بین المذاہب و بین المسالک امن نشست سے مختلف رہنماؤں کی گفتگو

بین المذاہب و بین المسالک امن نشست سے مختلف رہنماؤں کی گفتگو
راولپنڈی۔ ۱۱ اپریل ۲۰۱۷ء ( ) ملک میں موجود بدحالی اور افراتفری کا خاتمہ صرف اورصرف اتحاد اور رواداری سے ممکن ہے لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز میں وحدت و اتحاد اور رواداری و برداشت کے فقدان کی وجہ سے انتشار کی کیفیت جاری ہے جسے ملک دوست اور وطن پرست قوتوں کو مل کر ختم کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار راولپنڈی آرٹ کونسل میں مختلف مذاہب اور مسالک کے علماء اور رہنماؤں نے ایک امن نشست میں باہمی گفتگو کے دوران کیا ۔ نشست میں شیعہ علماء کونسل کے ڈویژنل صدر مولانا غلام قاسم جعفری ‘ ڈویژنل جنرل سیکریٹری سید جعفر حسین نقوی ‘ جمعیت علمائے پاکستان کے رہنماء مولانا خطیب احمد مصطفائی ‘ کرسچئین اسٹڈی سنٹر کے رہنماء باصر نیر ‘ تحریک پاسبان اہل سنت کے چیئرمین مولانا اخلاق احمد جلالی ‘ جعفریہ یوتھ کے سابق ناظم اعلی سید اظہار بخاری‘ ڈویژنل ناظم مجتبی ملک ‘ ضلع راولپنڈی کے ناظم سید اعجاز حسین نقوی ‘ پیپلز پارٹی یوتھ ونگ کے آغا حیدر علی ‘ ہندو کیمونٹی کے سرکردہ رہنماء جگ موہن داس اروڑا ‘ البصیرہ تحقیقاتی مرکز کے رہنما سید مرتضی اور دیگر کئی رہنماؤں نے شرکت کی۔
امن نشست کے شرکاء نے اس حقیقت کو اجاگر کرنے پر زور دیا کہ جب تک نچلی سطح یعنی عوامی لیول پر ایک دوسرے کے افکار و نظریات کو سمجھا نہیں جاتا۔ انہیں اعتدال میں نہیں رکھا جاتا۔ ان کے اظہار میں مکمل احتیاط نہیں برتی جاتی ۔ ایک دوسرے کے عقائد و نظریات کا احترام نہیں کیا جاتا اور ایک دوسرے کی عبادات و رسوم کو بطور حق تسلیم نہیں کیاجاتا تب تک پاکستان میں مذاہب اور مسالک کے درمیان ہم آہنگی ایک خواب رہے گا اور اسے تعبیر یا عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔ اس کے لیے جہاں تمام مذاہب اور مسالک کے اکابرعلماء کو اپنا قائدانہ و حکیمانہ کردار ادا کرنا ہوگا وہاں سیاسی و سماجی قوتوں کو ان اکابر کا ساتھ دینا ہوگا اور معاشرے میں گھر گھر امن کا پیغام پہنچانا ہوگا تاکہ وطن عزیز سے ہر قسم کے تفرقے اور شدت کا خاتمہ ہوسکے اور ملک کے تمام طبقات بالخصوص اقلیتیں مکمل آزادی اور سکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔
شرکاء نے باہمی محبت اور روابط کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس قسم کی امن نشستوں کا دائرہ وسیع کرنے کا عہد کیا اور مستقبل میں امن کا پیغام اپنے اپنے دائرہ کار میں پھیلانے کا عزم کیا۔