لاہور (جعفریہ پریس) المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی کی زیر صدارت حوزہ علمیہ جامعتہ المنتظرکی دوروزہ64 سالہ تقریبات کے پہلے روز بشارت عظمیٰ کانفرنس میں ملک بھر سے علما و ذاکرین اور بانیان مجالس نے شرکت کی اورواضح کیا کہ عزاداری سید الشہدا تبلیغ اسلام کا بہترین ذریعہ ہے۔جس سے دنیا بھر میں مظلوموں کی حمایت اور ظالموں سے نفرت کا درس ملتا ہے۔ مگر کچھ غیر ذمہ دار اہل منبر حضرات سٹیج حسینی پربدعات اور خرافات پیش کررہے ہیں۔جن کا قرآن مجید اور تعلیمات اہل بیت سے کوئی تعلق نہیں۔ لوگوں کو ذات باری تعالیٰ اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا آخرت کے حصول کا وسیلہ ہے۔ علما نے واضح کیا کہ توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ اور شرک کرنے والا مرتد ہے۔شرک کا ارتکاب کرنے والا شیعہ اثناعشری نہیںہوسکتا۔ہم ختم نبوت اور امامت پر غیر متزلزل ایمان رکھتے ، ولایت علی علیہ السلام کو ایمان کی علامت اوران سے بغض کو نفاق سمجھتے ہیں ۔ نماز دین کا ستون ہے، جس کے پاس نماز نہیں، اس کی کوئی نیکی قبول نہیں ہے اور جو اللہ کی بندگی نہیں کرتا وہ رسول کی امت اورعلی ؑ کا شیعہ نہیںہوسکتا۔کانفرنس سے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی، مفسر قرآن علامہ الشیخ محسن علی نجفی، علامہ نیاز حسین نقوی ،علامہ محمد تقی نقوی،علامہ افتخار نقوی،ڈاکٹر علامہ محمد حسین اکبر،علامہ محمد افضل حیدری،علامہ سبطین سبزواری،علامہ محمد شفا نجفی،کرم علی حیدری، ڈاکٹر شبیر حسن میثمی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے زوردیا کہ سٹیج حسینی کا تحفظ کرنا ہوگا۔ شرک کا ارتکاب کرنے والے شیعہ نہیں ہوسکتے۔ یہ نصیری اور استعماری ایجنٹ ہیں، جو سازش کے تحت ملت جعفریہ کو تقسیم اور بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے صدارتی خطاب میں زوردیا کہ عوام قرآن مجید کو غور سے پڑھیں تو انہیں مولوی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔اتحاد حکم قرآن ہے۔ جس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دعوت اسلام کے ساتھ ہی سب سے پہلے توحید اور پھر نما ز کا حکم آیا۔ پہلے نمازی خود حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم، حضرت علی علیہ السلام اور حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاہیں،جوان سے تعلق رکھتا ہے، نماز ترک نہیں کرسکتا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے زوردیا کہ علما معاشرتی بگاڑ کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ سیاست سمیت تمام شعبہ جات میں بگاڑ کو دور کرناضروری ہے۔ نئی نسل کو اچھا پیغام نہیں جارہا۔ ان کی توانائیوںکو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہا کہ سٹیج حسینی پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرنے والے مقررین کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے بانیان مجالس سے تعاون لیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اصلاح کا عمل اس انداز سے ہونا چاہیے کہ اتحاد کو نقصان نہ پہنچے۔امت کو تقسیم کرنے کی سازشوں کا پہلے بھی مقابلہ کیا ، آئند ہ بھی کریں گے۔ مجالس عزا تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہیں۔نفاق کا خاتمہ صبرو تحمل اورحکمت سے کریں گے۔ان کا کہنا تھاکہ عزاداری کے لئے کسی پرمٹ کی ضرورت نہیں ، یہ ہمار اآئینی حق ہے، مجالس عزا منعقد کروانے پر ایف آئی آرز کو مسترد کرتے ہیں۔ علامہ محمد تقی نقوی نے کہا کہ توحید، نبوت اور امامت کی توہین کرنے والا استعماری ایجنٹ ہوسکتا ہے، شیعہ نہیں۔علامہ افتخار نقوی نے مسلم فیملی لاز میں طلاق اور وراثت کے قوانین میں فقہ جعفریہ کے نقطہ نظر کے حوالے سے قانون سازی پر روشنی ڈالی۔علامہ سبطین حیدر سبزواری نے شیعہ اثنا عشریہ کا غالیوں اور نصیریوں سے کوئی تعلق نہیں، ہمیں دین عزیز ہے، کسی سے رشتہ ناطہ نہیں۔ قدیمی درسگاہ کی تقریبات کا آغاز شیخ الجامعہ علامہ اخترعباس ، مولانا صفدر حسین نجفی ، اور جامعہ کے مرحوم ٹرسٹیز کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اور ان کی قبور مبارکہ پر پھولوں کی چادریں چڑھا کر کیا گیا۔ محسن ملت مولانا صفدرحسین نجفی مرحوم کے موسس کردہ مدارس کے پرنسپل صاحبان کا اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔جس میں ان مدارس کے تعلیمی اور تبلیغی امور کے ساتھ مشکلات اورا ٓئندہ کا لائحہ عمل بھی زیر بحث لایا گیا۔تقریبات کے دوسرے روز یوم پاکستان کی مناسبت سے تقریب کا آغاز جامعتہ المنتظر میں پرچم کشائی سے ہوگا۔وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی کریں گے۔