اسلام آباد ( ) مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان، علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے 8 شوال یومِ انہدامِ جنت البقیع کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقدس مقامات کا احترام ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ پیغمبرانِ خدا، آئمہ معصومینؑ، امہات المؤمنینؓ اور اصحابِ کرامؓ جیسی عظیم اور برگزیدہ ہستیوں کے مزاراتِ مقدسہ امتِ مسلمہ کے لیے روحانی مرکز اور تاریخ کا روشن باب ہیں، جن کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ 8 شوال 1344ھ (1926ء) کو مدینہ منورہ میں واقع جنت البقیع میں اہلِ بیتِ اطہارؑ، ازواجِ مطہراتؓ اور اصحابِ رسولؐ کی مزارات کو منہدم کیا جانا ایک نہایت افسوسناک سانحہ تھا، جس کے اثرات آج بھی عالمِ اسلام کے دلوں میں محسوس کیے جاتے ہیں، ان مقدس مزارات کی دوبارہ تعمیر نہ صرف تاریخی و مذہبی انصاف کا تقاضا ہے بلکہ یہ عالمِ اسلام میں وحدت، محبت، باہمی اتفاق اور ہم آہنگی کے فروغ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں بیت المقدس اور دیگر مقدس اسلامی مقامات کو صہیونی شکنجے سے محفوظ رکھنا پوری امتِ مسلمہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس بات پر زور دیا کہ تمام مقدس سرزمینوں اور شعائرِ اسلام کے تحفظ کے لیے عالمِ اسلام کو متحد ہو کر مؤثر اور مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
علامہ شبیر میثمی نے عالمی برادری اور اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ وہ مقدساتِ اسلام کے تحفظ اور جنت البقیع سمیت دیگر مقدس مقامات کی بحالی کے لیے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات کریں۔ ان عظیم ہستیوں کی یادوں کو زندہ رکھنا ہمارے دلی جذبات، عقیدت اور اسلامی شناخت کی علامت ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے اور دنیا کے سامنے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور احترامِ مقدسات کا عملی اظہار بنتی ہے۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتؑ اور اصحابِ رسولؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور امتِ مسلمہ کو اتحاد و یگانگت کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔