11 جنوری 2017 ء جیو نیوز کا پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘ ۔۔۔اور کذاب منکر حقیقت سلیم صافی کا تکفیریت کا دفاع11 جنوری 2017 ء کو جیو نیوز کے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں میزبان عائشہ بخش نے جب ’’وزیر داخلہ کے سینٹ میں اس بیان کہ ’’دہشت گرد تنظیموں کا کالعدم فرقہ وارانہ گروہوں سے موازنہ صحیح نہیں‘‘ کے جواب میں ملک کے اہم صحافیوں سے ان کی آرا ء طلب کی تو بدقسمتی سے ان تجزیوں اور تبصروں میں شریک ایک مخصوص فکر کے حامل‘ تنگ نظر سوچ کے مالک‘ تعصب کی عینک لگانے والے‘ تکفیری گروہ کی آواز‘صحیح و غلط کی تمیز سے عاری اور ماضی میں بھی اختراع پردازیوں سے کام لینے والے بلکہ ملک میں انتشار و افتراق‘ فتنہ و فساد‘ بدامنی و انارکی ایجاد کرنی والے اور‘ مارو قتل کروکے ایجنڈے پر عمل پیرا منفی قوتوں کے ترجمان‘ جھوٹے‘ کذاب اور دہشت گردوں کے میڈیا کوارڈی نیٹر‘ خلاف واقع باتوں کے عادی شخص کا بے سرو پا تبصرہ بھی پروگرام کے آخر میں شامل تھا۔
یہ بے بنیاد تبصرہ بھی موصوف کے گذشتہ ماہ ’’جرگہ‘‘ پروگرام میں ان کی جھوٹی او ربے بنیاد باتوں کے گرد گھومتی فرضی کہانی کا ہی حصہ تھا۔پاکستان کے تمام مسلمہ اسلامی مکاتب فکر اور مسالک جن میں بریلوی‘ اہل تشیع‘ دیوبندی‘ اہل حدیث ودیگر مکتب فکر شامل ہیں‘ ان کے ماضی اور حال کے قائدین اور رہنماؤں میں علامہ امام شاہ احمد نورانی‘ قاضی حسین احمد‘ مولانا فضل الرحمن‘ علامہ ساجد نقوی‘ مولانا ابو الخیر زبیر‘ سراج الحق‘ مولانا سمیع الحق‘ مولاناراغب نعیمی‘ ساجد میر کی اکثریت پہلے برصغیر پاک و ہند کے تاریخی اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل پاکستان‘‘ میں ایک ساتھ بیٹھے دکھائی دیئے اور اب ملی یکجہتی کونسل پاکستان میں جو 28 کے قریب مذہبی جماعتو ں کا اتحاد ہے‘ شامل ہیں۔جبکہ ملک میں انارکی‘ انتشار‘ فتنہ و فساد‘ فرقہ وارانہ تشدد اور قتل و غارتگری کے بانی و پرچارک گروہ کے مسترد کئے جانے کے بعد موصوف اپنی خفت مٹانے اور کھسیانی بلی کھمبے نوچے کے مصداق اس قسم کے منفی حربے استعمال کررہے ہیں۔
یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی گذشتہ 26 سال سے اس ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘ اتحاد و وحدت کے فروغ اور امت مسلمہ کی سرفرازی و سربلندی کے لئے شب و روز کوشاں ہیں بلکہ ملک سے فرقہ واریت اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے عملی جدوجہد کررہے ہیں۔ ان کے نزدیک امت مسلمہ کے مابین اتحاد و وحدت ایجاد کرنے کی سعی و کوشش کرنا قرآنی و نبوی فریضہ اور ہمیں اس بات پہ فخر ہے کہ ہم ملک میں اتحاد و وحدت کے فروغ کے لئے تشکیل پانے والے مختلف اتحاد اور فورمز کے بانی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف مسالک کے مابین ضابطہ ہائے اخلاق پر دستخط ہوں یا اخوت و اتحاد کی خاطر بننے والے اتحاد امت کے پلیٹ فارمز ہوں۔ ان کی کوششیں بنیادی اور اساسی نوعیت کی رہی ہیں جن کا اعتراف دیگر تمام مسالک کے قائدین اور جید رہنماؤں نے بھی کیا۔
علامہ ساجد نقوی نہ صرف اسلامی دنیا میں ایک منفر د اور ممتاز مقام رکھتے ہیں بلکہ وطن عزیز سے فرقہ وارایت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں بھی انہوں نے بنیادی رول ادا کیا ہے ۔ ان کا بڑے سے بڑا مخالف اور ناقد بھی آج تک یہ ثابت نہیں کرسکا کہ کراچی کے ساحل سے لے تک سیاچین تک اور ملک کے دیگر حصوں میں ان کی عمومی تقاریر‘ بیانات اور گفتگو ہوں یا ان کی اپنی کمیونٹی کے اجتماعات میں ان کے خطابات ہوں‘ کہیں پر بھی کوئی ایک جملہ ایسا نہ ملے گا جس سے کسی دوسرے مکتب یا مسلک کے عقائد و نظریات یا شخصیات کی دل آزاری اور توہین کی بو تک آتی ہو۔
اس سے پہلے بھی ہم واضح کرچکے ہیں کہ ہم اس ملک میں دہشت گردی سے متاثر ضرور ہیں لیکن کبھی دہشت گردی میں حصہ دار نہیں رہے۔ہماراماضی و حال ایک شفاف آئینہ ہے۔ ہمارا کبھی بھی کوئی مسلح عسکری ونگ نہیں رہا اور نہ ہی ہم اس کے قائل ہیں۔ ہم ایک ایک دن میں سینکڑوں معصوم اور بے گناہ انسانوں کے لاشے اٹھا کر بھی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہوئے عوام کو صبرو
تحمل کی تلقین کرتے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سے تکفیری گروہ کی جانب سے غلیظ نعروں‘ مارو قتل کرو کے فتوؤں‘ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا وہ بازار گرم کیا گیا جس کی زد میں حساس ادارے‘ سرکاری دفاتر‘ مساجد‘ امام بارگاہیں‘ بزرگان دین کے مزارات‘ سکولز‘ چرچز اور عوامی مقامات آئے اور یوں ارض پاک کے گلی کوچوں کو بے گناہوں کے خون میں نہلا دیاگیا۔
لہذا قرآن مجید کے احکامات کی روشنی میں افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لا یستوون ’’کیا مومن اور فاسق برابر ہوسکتے ہیں۔ ہرگز نہیں‘