• حساس نوعیت کے فیصلے پر سپریم کورٹ مزیدوضاحت جاری کرے ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ شبیر میثمی کی زیر صدارت یوم القد س کے انعقاد بارے مشاورتی اجلاس منعقد
  • برسی شہدائے سیہون شریف کا چھٹا اجتماع ہزاروں افراد شریک
  • اعلامیہ اسلامی تحریک پاکستان برائے عام انتخابات 2024
  • ھیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کی جانب سے مجلس ترحیم
  • اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا
  • مولانا امداد گھلو شیعہ علماء کونسل پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر منتخب
  • اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام فلسطین و کشمیر کانفرنس
  • ملک کا امن شرپسندوں اور دہشتگردوں کے خاتمے میں مضمر ہے، علامہ شبیرمیثمی
  • اسلامی تحریک پاکستان کا ویڈیو لنک اجلاس اہم فیصلہ جات

تازه خبریں

جو بائیڈن کا بیان مضحکہ خیز اور سامراجی سوچ کا عکاس ہے۔ قائدِ ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی

جو بائیڈن کا بیان مضحکہ خیز اور سامراجی سوچ کا عکاس ہے۔ قائدِ ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی
جاپان کی نسلی معذوری جوہری امریکہ کے خطرناک ہونے کا آج بھی اشتہار ہے، جوہری پاکستان جوہری امریکہ سے زیادہ محفوظ ہے
امریکہ سامراجی روش ترک کر کے دنیا کے ساتھ برابری کے تعلقات استوار کرے تاکہ دنیا میں امن قائم ہو سکے
امریکہ کی طرح پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط سے مضبوط تر بنائے۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان
روالپنڈی/اسلام آباد 16 اکتوبر 2022ء(جعفریہ پریس پاکستان )قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امریکی صدر جو بائںڈن کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن کا بیان اس ادراک اور احساس کا عکاس ہے کہ جوہری پاکستان واقعی استعماری قوتوں اور ان کے حاشیہ برداروں کے مذموم عزائم کے لیے خطرناک اور دنیا میں امن کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ امریکی صدر کے بیان پر تبصرے کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ جو بائیڈن کے اس بیان نے ایک بار پھر اس امریکی سامراجی ذہنیت اور روش کو ظاہر کیا ہے کہ امریکہ دنیا کا ٹھیکیدار بن کر ماضی کی طرح اب بھی ہر ملک میں مداخلت سے باز نہیں آیا۔ انہوں کہا کہ افسوس ہے امریکہ نے اب تک ماضی کی شکستوں سے سبق نہیں سیکھا اور ایک بار پھر اپنی اسی روش کو دوہراتے ہوئے وہ دنیا کو نئے قضیہ کی جانب بڑھا کر فساد فی الارض کا مرتکب ہونا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سامراجی اور جارح قوتوں کو ان کے مذموم عزائم سے باز رکھنے کے لیے جوہری پاکستان کو خطرناک سمجھنا دنیا کے لیے امن ناگزیر ہے کیونکہ سامراجی و جارح قوتوں کے مذموم عزائم سے انسانی زندگیوں کا تحفظ دراصل خطے اور دنیا کے امن سے مربوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح امریکہ سمیت ہر ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اسی طرح وطن عزیز پاکستان کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کو مظبوط سے مظبوط تر بنائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بائیڈن نے پاکستانی جوہری ہتھیاروں کو بے ترتیب کہہ کر بھی اپنی ناقص معلومات کی تصدیق کی ہے کیونکہ پاکستان کا جوہری سسٹم کنٹرول اور مظبوط ہے اور ایک ذمہ دار ملک کی طرح جوہری پاکستان نے آج تک دنیا کے امن میں جو کردار ادا کیا ہے دنیا اس کی قائل رہی ہے۔ تاہم انہوں نے تاریخی حقیقت کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ جاپان میں پون صدی گزر جانے کے باوجود نسل در نسل چلے آنے والے انسانی معذوری کے آثار دنیا کے امن کے لیے جوہری امریکہ کے خطرناک ہونے کا آج بھی اشتہار پیش کر رہے ہیں۔ انہوں امریکی صدر کو مشورہ دیا کہ اب امریکہ کو دنیا میں ٹھیکیدارانہ مداخلت کی روش ترک کر کے برابری کی بنیاد پر تمام ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے چائیے تاکہ دنیا کے معاشروں میں ہم آہنگی اور انسانی دوستی کی کاوشیں پنپ سکیں اور دنیا امن کا گہوارہ بن سکے۔