خانہ کعبہ جزوایمان، کوئی مسلمان حملہ تو دور کی بات میلی آنکھ سے دیکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، ساجد نقوی
زیر گردش خبروں کی بین الاقوامی شفاف و غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
یہ خبریں، افواہیں سچ ہوں تو مرتکب قوت کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ، جھوٹ ہوں تو فتنہ پردازوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے ،مطالبہ
اسلام آباد7نومبر2016 ء ( )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ خانہ کعبہ پر کوئی مسلمان حملہ تو دور کی بات اس کی جانب میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا، مقدس مقامات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ یا کسی مصلحت سے کام نہیں لیا جاسکتا،جلد بازی میں ردعمل دے کر اپنی کمزور حیثیت کو تماشہ نہ بنایا جائے اور اس انتہائی سنگین معاملے کی بین الاقوامی سطح پر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر کعبۃ اللہ پر حملے بارے گردش کرنیوالی خبریں یا افواہیں درست ثابت ہوں تو مرتکب عناصر کو بے نقاب کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اگر جھوٹ اور افواہوں پر مبنی ہوں تو پوری امہ کے جذبات کو بھڑکانے والوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چندروز سے مکہ مکرمہ بالخصوص خانہ کعبہ پر حملے بارے گردش کرنیوالی خبروں پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ انتہائی اہمیت کے حامل شہر ہیں اور کعبۃ اللہ، روضہ رسول اکرم ؐ،مسجد نبوی ؐ، جنت البقیع اور دیگر مقدس مقامات کے باعث ان شہروں کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ کوئی مسلمان خانہ کعبہ پر حملے کی جسارت تک نہیں کرسکتا ، حملہ تو دور کی بات کوئی اس جانب میلی آنکھ سے بھی دیکھنے کا تصور نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ مقدس مقامات کے تحفظ کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ یا کسی مصلحت سے کام نہیں لیا جاسکتا ۔ کعبۃ اللہ پر حملے بارے خبریں یا افواہیں زیر گردش ہیں جس کے باعث عالم اسلام میں ایک بے چینی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خبروں یا افواہوں کی تحقیقات کیلئے بین الاقوامی اور بین الاسلامی سطح پر شفاف اور غیر جانبدارتحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل حقائق امت مسلمہ کے سامنے آسکیں ۔ اگر یہ خبریں درست ثابت ہوں تومرتکب عناصر کو بے نقاب کر کے کیفر کردار تک پہنچا یا جائے لیکن اگر یہ خبریں درست نہ ہوں تو پوری امت کے جذبات کو مجروح کرنے والے فتنہ پردازوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے۔