تازه خبریں

درگاہ حضرت شاہ نورانی پر ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔(وفا عباس، مرکزی صدر جے ایس او پاکستان)

بلوچستان میں ایک ہی ماہ میں دوسری مرتبہ ہونے والی دہشت گردی ملکی اداروں کی کارکردگری پر سوالیہ نشان ہے۔درگاہ حضرت شاہ نورانی پر ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔(وفا عباس، مرکزی صدر جے ایس او پاکستان)
اسلام آباد( )جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر وفا عباس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کی طرف سے ایک ہی مہینہ میں دوسری بڑی کاروائی ملکی اداروں کی کارکرگی پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔ پہلے واقعے کے بعد بھی یہ بیانات سامنے آئے تھے کہ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔اور دہشت گرد وں سے کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔مگر ایک مرتبہ پھر دہشت گرد اپنی کاروائی میں کامیاب ہو گئے اور درگاہ حضرت شاہ نورانی میں ایک مرتبہ پھر ۶۰ بے گناہ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا۔
مرکزی صدر وفا عباس کا کہنا تھا کہ ملکی اداروں کو چاہیے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے اور دہشت گرد چاہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ، اور کسی بھی مسلک سے ہو اس کو عوام کے سامنے لایا جائے اور اس کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اب حالت یہ ہے کہ کراچی میں دہشت گروں کے خلاف جب آپریشن ہوتا ہے تو ہمارے سیکیورٹی کے نوجوان جو وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں داؤ پر لگاتے ہیں وہ نقاب کیے ہوئے ہوتے ہیں۔
مرکزی صدر نے کہا کہ اگر ہم نے آج اس دہشت گردی کو سنجیدہ انداز میں نہیں لیا تو ہماری نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ کیوں ہمارے لیے ایک ایسا وطن چھوڑا کہ جہاں ہمیں اپنی عبادات، تفریح اور حتیٰ اسکولوں میں بھی امن و امان میسر نہیں ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور ہم دنیا میں فخر کے ساتھ کھڑے ہو سکیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر چھپی کالی بھیڑوں کو باہر نکالیں اور ان کو سزا دے کر ملک عزیز کو سر بلند کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔