• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

دہشتگردی و انتہاءپسندی کے بعد سب سے بڑا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی و خوراک کی قلت ہے

دہشتگردی و انتہاءپسندی کے بعد سب سے بڑا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی و خوراک کی قلت ہے،قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی
وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے سبب غربت سمیت دیگر مسائل نے جنم لیا، معاشروں کی ترقی میں دیہی خواتین کا کردارلائق تحسین ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کا پاکستان براہ راست متاثر، سیلاب سے متاثرہ علاقے عالمی توجہ کے منتظر، امداد کےساتھ ہرجانہ ادا کیا جائے،قائدملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد16اکتوبر2022( جعفریہ پریس پاکستان )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ معاشرے یکساں حقوق اور مواقع کی فراہمی سے ترقی کرتے ہیں،دنیا کو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ خوراک کی قلت،وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے سبب بڑھتی ہوئی غربت سے ہے، اسلام صرف دین نہیں مکمل ضابطہ حیات ہے، دیہی خواتین جس طرح حجاب کے ساتھ اپنے امور انجام دیتی ہیں وہ بھی لائق تحسین ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کا پاکستان پر براہ راست اثر پڑا، عالمی برادری امداد کےساتھ ہرجانہ بھی ادا کرے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یکے بعد دیگرے دیہی خواتین ، عالمی یوم خوراک اور غربت کے خاتمے کے حوالے سے منائے جانیوالے ایام پر اپنے مشترکہ پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ پاکستان سمیت دنیا کی بڑی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور دیہی علاقے ہی ملکوں کی ترقی خصوصاً پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ایک جانب زرعی اجناس کی صورت میں ادا کررہے ہیں تو دوسری تیل، گیس، کوئلے سمیت دیگر معدنیات کی صورت میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں مگر افسوس آج بھی دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے ، دیہی خواتین جس طرح روایتی و معاشرتی انداز میں حجات کے ساتھ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخواہ ، کشمیر و گلگت بلتستان میں زرعی شعبے کےساتھ دیگر شعبوں خصوصاً تھرجیسے علاقوں میں تکنیکی امور میں خدمات انجام دے رہی ہیں وہ لائق تحسین ہے۔ انہوں نے عالمی یوم خوراک اور غربت کے خاتمے بارے پر اپنے پیغام میں کہاکہ بہترین خوراک زندگی کی بنیاد ہے، کرئہ ارض کے ماحول کو بہتر اور وسائل کی تقسیم کو منصفانہ کئے بغیر اس بڑھتے ہوئے چیلنج کا سامنا نہیں کیا جاسکتا، اس وقت انسانیت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ انتہاءپسندی و دہشت گردی کے ساتھ اگر کوئی ہے تووہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی ، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور وسائل کی تقسیم میں بے اعتدالی ہے، عالمی برادری کو ابھی سے اس ماحولیاتی تبدیلی ، اس کے اثرات، خوراک کی کمی ، غربت اور امارات میں بڑھتے ہوئے فرق کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے قرآن پاک میں بھی آفاقی پیغام ہے کہ ” دولت چند ہاتھوں میں گھومتی نہ رہے “ اس فلسفے کو سمجھ کر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ، دنیا میں خوراک کے بے پناہ وسائل ہیں البتہ جب صدیوں سے جاری نظام کو بگاڑنے کے اقدامات کیے گئے تو اس کے اثرات آج ماحولیاتی آلودگی اور ٹمریچر بڑھنے کی صورت میں سامنے آرہے ہیں اور اگر اس جانب سنجیدگی سے غور نہ کیاگیا تو پھر اس چیلنج سے نمٹا انتہائی مشکل ترین ہوگا،عالمی ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور بے ہنگم و مصنوعی ترقی کے اثرات بارے حالیہ عالمی رپورٹس اور پاکستان میں آنیوالی موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریاں واضح ثبوت ہیں کہ قدرتی ماحول بہتر بنانے کےلئے اقدامات کئے جائیں۔انہوںنے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی جانب عالمی توجہ ایک مرتبہ پھر مبذول کراتے ہوئے کہاکہ ابھی تک عالمی برادری نے اعلانات اور کچھ امداد کے سوا کچھ نہیں کیا، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا براہ راست شکار ہوا ہے اورجن مضر گیسوں اور عوامل کے سبب یہ تباہی آئی اس میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ، عالمی برادری پاکستان کو امداد کے ساتھ ہرجانہ بھی ادا کرے۔