• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

سیکیورٹی پالیسی نہیں بناسکتے ہوتو اب منزل وہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ صرف شیعوں کو نہیں بلکہ محروموں کو تحفظ فراہم کریں

جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے شہید الطاف حسین الحسینی کی تیسری برسی سے صدارتی خطاب کیا ۔ اپنے خطاب میں قائد ملت جعفریہ نے شہید الطاف حسین الحسینی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یقیناًحق بنتا ہے اس شہید کا جس نے اپنی زندگی کا ایک حصہ ملت کیلئے ملت کے حقوق اور سربلندی کیلئے جد و جہد میں گزارا ،اور آخر اپنی جان بھی ملت کی مفاد کیلئے قربان کردی ۔ حق بنتا ہے اس شہید کا کہ اس کی برسی شایان شان منائی جائے اور اسے اچھے انداز میں خراج تحسین پیش کیا جائے ۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان قومی پلیٹ فارم کے سفر کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ شہید الطاف حسینی بھی اسی ملی پلیٹ فارم کا حصہ تھے جس قومی پلیٹ فارم نے کردار انجام دیا ہے اور آج بھی بزرگان اس میں کردار ادا کر رہی ہیں جس طرح ماضی میں شہداء نے اپنا کردار ادا کیا ۔مشکل اور پیچیدہ حالات میں کردار انجام دیا اور دے رہے ہیں جہاں لوگوں کو ان حالات کو سمجھنا بہت مشکل ہے ۔ کیونکہ توجہ کم ہے بہت کم لوگ ہیں جو ان پیچیدگی کو سمجھ سکتے ہیں اور اس پیچیدگی کو سمجھ کر مناسب اقدامات کرنا جن سے ملت کی سربلندی اور سرفرازی میں اضافہ ہو ، ملی پلیٹ فارم کی بغیر ممکن ہی نہیں ۔ملت پلیٹ فارم سے جو کچھ ہوتا رہا آج تک وہ ایک تاریخ ہے ۔
حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید فرمایا کہ تشیع کے بارے میں یہ سوچ رائج تھی کے یہ محدود سوچ ہے اور تنگ نظر اور علاقائی سطح میں محدود لوگ ہیں اور ظاہر ہے ملی اور ملکی حالات میں ، پاکستان کی سیاست میں ،پاکستان کی نظام میں ،پاکستان کی معشت میں اور پاکستان کے معاشرت میں تشیع کا کوئی رول نہیں تھا ، ملت پلیٹ فارم نے ان کی اس سوچ کو عملی انداز میں تبدیل کیا۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں ملک کی دینی جماعتوں کو ، دینی مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر تنظیمی لحاظ سے منسلک کرنے کی بھرپور کوششیں ہوئے اوران کوششوں کی کامیابی ہوئے اور ان دینی جماعتوں کو ایک جماعت کی حییثیت سے متعارف کروایا ۔اور اس میں ملی پلیٹ فارم کا بنیادی رول ہے ۔دنیا میں بہت سے ممالک ہیں جن میں کانفرنسیں ہوتی ہیں ، کتابیں چھپتیں ہیں ، لیٹریچر شایع ہوتا ہے مگر جہاں اتحاد امت اسلامی کا عملی نمونہ ہے وہ پاکستان ہے ۔اور اس میں تشیع نے بانی ہونے کا رول ادا کیا ہے ۔ میں نے کسی کمزوری ، مشکل اور مجبوری کی وجہ سے یہ اتحاد کی محفل نہیں سجائی ، بلکہہماری ذمہ داری اور ہمارا فریضہ تھا۔ ہم پاکستان کا ایک طاقتور حصہ ہیں اور اسی بنیاد پر ان کی محفل میں بیتھ کر میں نے کہا کہ میں تم میں سہارا ڈھونڈنے نہیں آتا اور مجھے اس ملک میں کسی کے سہارے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جو یا علی مدد کہنے والا ہو وہ کسی سہارے کا محتاج نہیں ہوتا ۔
قومی قیادت نے اس کے بعد سانحہ عاشورا راولپنڈی پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ پورا سرمایہ لگایا اورعزاداری کے خلاف این غبارہ بنایا گیا مگر ہم نے اپنی حکمت عملی سے اس غبارے کی ہوا نکال دی اور اس کے بعد حکمرانوں نے جب یہ دیکھا کہ جلوس تو یقیناًنکلے گا تو کہنے لگے جلوس کے روٹ کو تبدیل کیا جائے ۔ ہم نے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ملی یکجہتی کونسل کے دو اجلاس بلائے اور متحدہ مجلس عمل کا اجلاس جو کبھی بھی نہیں ہوا اس کا اجلاس بھی کیا ۔اور اس کے بعد انتظامیہ اور حکمرانوں نے کہا دوسرے جو گروپ ہیں ہم ان کو منوالیں گے ، بس ہمیں آپ کی حمایت کی ضرورت ہے ۔میں نے ان کو کہا ہمارا تعاون تو ہوتا ہے لیکن آپ سے نہیں بلکہ قانون کی نفاذ کیلئے ،نمائندگی ولی فقیہ کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک کے اصل حکمران ہم ہیں اسی لئے اس ملک میں امن اور امان کی بحالی کیلئے ہم نے ہمیشہ تعاون کیا ہے مگر سن لو کہ جانت ہو کہ ہم نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ؟میں مناظرہ تو نہیں پڑھتا مگر جب شورا میں بھی بیٹھے ہوئے ہوں تو تب بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔اور مدینہ کے گورنر کے سامنے کی بات ہو تو ہم کہتے ہیں کہ مثلی لا یبایع مثلہ ،مجھ جیسا کبھی بھی اس (یزید) جیسے کی کبھی بیعت نہیں کر سکتا۔
قائد ملت جعفریہ نے اس کے بعد مذاکرات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ابھی یو شور مچایا جا رہا ہے مذاکرات کے بعد شریعت کا نفاذ ہوگا یافلان ہوگا ، آپ کو گبھرانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ میں کئی بار بتا چکا ہوں کہ ہم نے اس ملک کے اداروں کی کھڑکیاں اور دروازے بند کر دئے ہیں جہاں سے اب سازش کا پرزہ پہنکا بھی نہیں جا سکتا ۔ عوام کو پتہ نہیں کہ جن سے مظاکرات ہو رہے ہیں وہ کون لوگ ہیں ؟!اور آپ کے قاتل کون ہیں ؟اب جن سے مذاکرات کئے جا رہے ہیں میں ان کا نام نہیں لیتا کیونکہ میں ان ناموں کو حقیقت نہیں سمجھتا ہوں ۔اسی لئے میں ایک گوتھ سے لیکر کراچی کے بڑے بڑے صحافیوں سے پوچھتا رہا کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کی تعریف بتادو ؟ مگر آج تک کوئی تعریف نہیں بتا سکے !اب سیکورٹی پالیسی مرتب کی ہے تو میں سوال کرتا ہوں کہ اتنے شیعہ قتل ہوئے تو تمہاری سیکیورٹی پالیسی شیعہ کے قاتلوں کے بارے کیا کہتی ہے ؟بناوگے سیکیورٹی پالیسی تو ہم تمھارے ساتھ ہیں کیوں کہ حکومت ضرور چاہئے ، نظام اور سسٹم چاہئے ، لوگوں کو سکون چاہئے ، امن اور راحت چاہئے ، سیکیورٹی پالیسی نہیں بناسکتے ہوتو اب منزل وہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ صرف شیعوں کو نہیں بلکہ محروموں کو تحفظ فراہم کریں ۔